Ten deeds to achieve goals and to overcome problems

By

Maulana Muhib Ullah

مقاصد میں کامیابی اور مشکلات سے خلاصی کا یقینی علاج یہ دس اعمال ہیں

1. ذکر اللہ اور وظائف

جیسے


لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

یہ سخت بیماریوں اور مصائب کا یقینی علاج ہے
اکثر لوگ بہت سی مصیبتوں و پریشانیوں میں مبتلا ہیں مثلأ
۱۔ سکون نہ ہونا یا پریشان رہنا
۲۔ بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں اور بہت سے دوسرے امراض میں مبتلا ہونا
۳۔ رزق کی تنگی ہونا
۴۔ کاروبار میں مشکلات اور مصائب کا پیش آنا
۵۔ نکاح نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہونا، مرد ہو یا عورت
۶۔ قرض کی وجہ سے پریشان ہونا [اس پر ہو یا اس کا دوسروں پر]
۷۔کاروبار یا پڑھائ میں دل نہ لگنا
۸۔ غصہ کا غلبہ ہونا
۹۔ ماں، باپ، بھائ، عزیز و اقارب وغیرہ سے نفرت ہونا
۱۰۔ گناہوں سے نفرت نہ ہونا
۱۱۔ دین کی طرف رغبت نہ ہونا
۱۲۔ جادو یا نظر بد کا اندیشہ ہونا
۱۳۔ غلط ماحول سے پریشان ہونا
۱۴۔ دین میں سکون و نورانیت نہ ہونا
۱۵۔ شیطانی وساوس اور غیر مفید خیالات زندگی سے اتنا بیزار ہونا کہ خودکشی کی طرف طبیعت مائل ہونا وغیرہ وغیرہ

اس کا اکسیر اور مجرب علاج یہ ہے۔

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

تفسیر نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم
"نہیں ہے طاقت گناہوں سے بچنے کی لیکن اﷲ کی حفاظت سے اور نہیں ہے قوت اﷲ کی اطاعت کی مگر اﷲ کی مدد سے"

۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

ننانوے آفات کیلیے علاج ہے۔ جس میں سب سے چھوٹی آفت پریشانی ہے۔

۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

پڑھتا ہے تو اﷲ تعالی اس کے جواب میں فرماتا ہےکہ وہ تابعدار بن گیا اور اپنا کام اﷲ کے سپرد کر دیا۔

۳۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے
گناہ سے پرہیز اور عبادت کرنا جنت کے خزانوں میں سے ہے اور

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

کے بکثرت پڑھنے سے گناہوں سے بچنے اور عبادت کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔
۴۔ عوف بن مالک اشجعی رضی اﷲ تعالی عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں دو مصیبتوں میں مبتلا ہوں ہوں، ایک میرا لڑکا کفار نے اغوا کیا ہے اور دوسرا رزق کی بہت زیادہ تنگی ہے۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دو وصیتیں فرمائیں۔ ایک تقوی اختیار کرو دوسرا

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

کثرت سے [۵۰۰ مرتبہ] پڑھا کرو۔ انھوں نے دونوں کام شروع کئے۔ وہ اپنے گھر ہی میں تھے کہ ان کا لڑکا واپس آ گیا اور اپنے ساتھ سو اونٹ بھی لے کر آیا۔ اس طرح دونوں مصیبتیں ختم ہو گئیں۔
بندہ ناچیز کا مشورہ ہے کہ زبان پر دنیا کا ذکر بہت کیا ہے۔ دنیا کے کاموں کو وقت بہت دیا ہے۔ خواہشات میں اپنے آپ کو بوڑھا کر لیا ہے۔ آج

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

پڑھنے کے لئے ۴۱ دن تک ۲۴ گھنٹوں میں سے ۲۰، ۳۰ منٹ فارغ کر لیں پھر آپ کو پتہ چل جائے گا کہ میں نے اﷲ تعالی کے ذکر سے کیوں غفلت کی۔ دنیا کے کاموں کو کام سمجھتا تھا ذکر الہی کو کام نہیں سمجھا۔ ان کے لیے وقت ملتا تھا ذکر کے لیے وقت نہیں ملتا تھا۔ ۴۱ دن کے بعد آپ ذاکر بن جاؤ گئے انشاء اللہ ۔ اللہ نے کسی عمل کے بارے میں کثرت سے کرنے کا حکم نہیں دیا لیکن ذکر کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے۔ [احزاب – ۴۱]

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا

یعنی اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔
تھوڑا ذکر کرنا منافق کی علامت ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا [النساء ۱۴۲]

لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا

یعنی منافقین ذکر کم کرتے ہیں۔ موت آنے سے پہلے اس بارے میں سوچ لینے سے اپنا ہی فائدہ ہے۔ اللہ ذکر کثیر کرنے کی توفیق نصیب کرے۔

پڑھنے کا طریقہ:

 

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ

روزانہ ۵۰۰ مرتبہ پڑھیں۔ اور اس کے اول ۱۰۰ مرتبہ اور آخر ۱۰۰ مرتبہ درود شریف پڑھیں۔ اگر مشکل ہو تو درود شریف اول و آخر پانچ پانچ مرتبہ بھی کافی ہے۔ درود شریف جو بھی یاد ہو پڑھ لیں یا یہ درود شریف پڑھو الھم صلی علی سیدنا محمد و علی ال سیدنا محمد و بارک و سلم علیہ۔ یہ عمل ۴۱ دن بلا ناغہ کرنا ہے۔ اگر کسی دن ناغہ ہو جائے تو دوسرے دن ڈبل پڑھے۔ ایک نشست میں زیادہ بہتر ہے مگر ضروری نہیں۔ عورت ماہواری کے ایام میں بھی پڑھ سکتی ہے۔ اس کے بعد اگر اس کلام کی برکت سے اپنے حاجات کیلیے دعا کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ جب ۴۱ دن پورے ہو جائیں اور بہت زیادہ دینی اور دنیاوی فائدہ محسوس ہو تو اپنے شرعی پیر سے اجازت لے کر اسے مستقل پڑھا کرے۔ آپ اسے باآسانی ۱۵ سے ۲۰ منٹ میں پڑھ سکتے ہیں۔ اگر اپنا مرشد نہ ہو تو شیخ المشائخ امام وقت خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کندیاں شریف والے کے خلیفہ [حضرت مولانا] محب اللہ عفی عنہ بلوچستان لورالائ والے سے موبائل نمبر

0333 3807 299

0302 3807 299

یا فون نمبر

0824 411082

پر اجازت کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں

2. صحیح توبہ :

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ

ترجمہ: "جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کر دیتا ہے "۔
یعنی ہمارا مصائب میں مبتلا ہونا گناہوں کی وجہ سے ہے ۔ صحیح تو بہ سے گناہ ختم ہوتے ہیں اور مصائب دور ہوتے ہیں۔ صحیح توبہ کے لئے تین شرطیں ہیں۔ اول : زمانہ ماضی میں جو گناہ ہوئے ان پر مذامت ہونا۔ دوم:موجودہ زمانہ کے گناہوں کو چھوڑنا ۔ سوم: آئندہ گناہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کرنا۔ نوٹ: اگرہم توبہ نہیں کرتے ہیں تو مصائب آنے پر کیوں روتے ہیں۔

3. توکل

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ

ترجمہ: "اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کا کفایت کرے گا"۔
توکل کا مطلب اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرنا ہے ۔ اسباب اختیار کئے جاتے ہیں مگر دل کا بھروسہ صرف ہمارے خالق ومالک پر ہونا چاہئے ۔ بوقت ضرورت اسباب اختیار کرنا سنت اور اسباب ترک کرنا جہالت اور اسباب پر اعتماد کرنا شرک ہے ۔ نوٹ: اگر ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کرتے تو کیا اسباب پر یقین کریں گے۔ اسباب تو ہماری طرح محتاج ہیں اور محتاج کسی محتاج کا کیا بنا سکتا ہے ؟

4. تقویٰ

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا
وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ

ترجمہ:"اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے (مضرتوں سے ) نجات کی شکل نکال دیتا ہے ۔ اور اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا"

دوسری آیت:

وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا

ترجمہ: اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کے کام میں سہولت پیدا کردے گا"۔ یعنی تقویٰ سے ضرور بضرور مشکلات حل ہوتی ہیں اور وہاں سے رزق ملتا ہے جہاں سے گمان بھی نہیں ہوتا۔ تقویٰ سے مراد فرائض واجبات پر عمل کرنا اور حرام سے بچنا ہے ۔ نوٹ: اگر ہم تقویٰ اختیار نہیں کرتے ہیں تو مشکلات میں پھنسنے سے کیوں روتے ہیں۔

5. شکر

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ

ترجمہ: "اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب (بھی )سخت ہے "۔
اللہ پاک کے احکامات کی فرمانبرداری شکر اور نافرمانی کرنا ناشکری ہے ۔ کیونکہ ہمیں ساری نعمتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں: نوٹ: اگر ہم ناشکری کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کیوں روتے ہیں۔

6. صبر

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ: "اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بے شک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے "
صبر کو سمجھنے کے لئے دو چیزیں ہیں۔ اول: ہر مصیبت کا آنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھنا جو ہمارے مالک ہیں اور مالک اپنی ملک میں جو بھی کرے کسی کے لئے ناراضگی کی بات نہیں ہے ۔ دوم: صبر کرنے پر ثواب کی امید رکھنا قراآنی فیصلہ ہے کہ صابرین کو بے حساب اجر ملے گا۔ نوٹ: اگر ہم اپنی پریشانی کا علاج صبرے سے نہیں کرتے تو کیا بے صبری اور حرص سے کچھ مل جائے گا؟

7. صلوۃ الحاجت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ

ترجمہ: "اے ایمان والو!صبر اور نماز سے مدد لیا کرو"۔ حدیث شریف میں ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ سے مانگنے کا ذریعہ ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی حاجات نماز کے ذریعہ سے حل کرتے تھے ۔ نماز اور صبر عبادت بھی ہے اور حوائج کا یقینی اور مضبوط علاج بھی ہے ۔

8. دعا

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ

ترجمہ: "اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا"
یہ دعا مانگنے کے لئے خصوصاً تہجد کا وقت ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ تہجد کے وقت اللہ تعالیٰ پہلے آسمان سے دو اعلان کرتے ہیں۔ اول : کوئی ہے مجھ سے دعا کرنے والا میں اس کی دعا قبول کروں گا۔ دوم: کوئی ہے مجھ سے سوال کرنے والا میں اس کو دوں گا ۔ نوٹ:اگر ہم اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتے اور مخلوق سے مانگتے ہیں تو مخلوق تو خود محتاج ہے ۔ وہ ہماری کس طرح حاجت پوری کریگی ۔

9. نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کرنا

جیسے بخاری شریف میں ہے کہ تین آدمی جو پتھر کی وجہ سے غار میں بند ہو گئے تھے ، تو ہر ایک نے اپنا کوئی نیک عمل پیش کر کے دعا کی اورنجات حاصل کی ۔

10. صدقہ

حدیث شریف میں ہے کہ

الصدقة رد البلاء

ترجمہ: صدقہ مصائب کو ٹال دیتا ہے
اللہ تعالیٰ کا غضب بہت سخت ہے لیکن صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب سے بھی سخت ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ۔

ظاہری اسباب

دوکان ، ملازمت ، ذراعت ، تجارت ، حکومت وغیرہ یہ سب ظاہری اسباب ہیں ان کا ستعمال جائز ہے لیکن ان سے کامیابی یقینی نہیں ہے ۔ ظاہری اسباب ضعیف ہیں اور قیامت میں ان کا حساب دینا ہوگا۔ظاہری اسباب میں بے اطمینانی اور دربدری ہے اور یہ جھگڑے کا سبب ہیں ۔کام بنانے میں دس اعمال واجب اور قومی ہیں۔ دس اعمال دنیا کا کام بھی بنا دیتے ہیں اور مقاصد میں کامیابی اور مشکلات سے خلاصی کا یقینی علاج ہے ۔ دس اعمال روز قیامت نجات اور جنت کا ذریعہ ہیں اور اس میں اطمینان اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری، شیطان مردود اور جہنم سے خلاصی ہے۔

دس اعمال پر عمل کرنے کا آسان طریقہ:

1۔ تبلیغی حضرات کے ساتھ وقت لگانا۔ زیادہ نہ ہوسکے تو تین دن ضرور لگانے چاہئے 2۔مرشد کامل سے بیعت کرنا اور اس کی ہدایت پر زیادہ نہ ہوسکے تو تھوڑا سا ذکر کرنا۔ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو شخص ہمارے طریقہ (سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ ) میں داخل ہوا وہ محروم نہیں رہے گا اور جو ازلی محروم ہے وہ ہمارے سلسلہ سے منسلک نہ ہو سکے گا۔ 3۔اپنے بچوں کو دینی تعلیم دینے کے لئے دینی مدارس میں داخلی کروانا چاہئے تاکہ بچہ صحیح انسان بن کر اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرے اور ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جائے ۔ ورنہ غلط ماحول کی وجہ سے بچے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نافرمان اور ماں باپ کے گلے کا طوق بن جائیں گے ۔