Non Governmental Organization (NGO)

 
By
 
Maulana Muhib Ullah
 
 
 
فتنہ این۔ جی- اوز
 
قال اللہ تعالی فی قرآن المجید
 
Al-Anfaal – Verse 36
 
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَالَّذِينَ كَفَرُوا إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ
 
ترجمہ:
 
یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ  اللہ تعالی کی راہ سے [مخلوق خدا] روکے۔
 
فائدہ: این- جی – اوز  والے ایسا ہی کرتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا رخ اللہ تعالی کے دین کے راستے سے دوسری طرف ہو
 
Al-Baqara-Verse 120
 
وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
 
ترجمہ
 
تجھ سے یہودی و نصاریٰ [انگریز] ہرگز راضی نہیں ہو جائیں گے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ملت کی تابعداری نہ کریں۔
 
فائدہ: این جی اوز والے یہی چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو عیسائ بنا دیں۔
 
پاکستان اور ہندوستان کا فخر حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب مدظلہ العالی فرزند ارجمند حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمتہ اللہ علیہ [جو کہ جمعیت علماء ہند کا امیر ہے] نے این جی اوز کے متعلق ہدایات اور تفصیل فرمائ کہ [یہ دیو بند کانفرنس کے بعد جامعہ مدینہ لاہور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے این جی اوز  کے متعلق دردناک وضاحت فرمائ جبکہ میں نے یہ خود تقریر سنی۔ مولانا محب اللہ عفی عنہ خادم جامعہ سراجیہ سعدیہ نزد کمشنری لورالائ] اے پاکستانی علماء کرام آپ مساجد و مدارس میں مصروف ہیں۔ مسلمان عوام کو این جی اوز نے عیسائ بنانا شروع کیا ہوا ہے۔ اس فتنہ سے حفاظت کیلئے آپ کوئ دعوت نہیں چلاتے۔ آپ بنگلہ دیش سے عبرت لیں۔
 
 
 
حضرت نے این جی اوز کے پانچ بڑے نقصانات بیان فرمائے۔
 
پہلے بنگلہ دیش میں ۶۰۰۰ عیسائ تھے۔ جب این جی اوز کا کام شروع ہوا تو ۳۵ سال بعد بنگلہ دیش بنانے کے بعد مردم شماری ہوئ۔ ۵۰ لاکھ عیسائ بن چکے تھے۔ اس غفلت نے اسلام کو کتنا نقصان پہنچایا-
 
۲۲۰۰۰ ہزار اسکول این جی اوز نے لوگوں کو مرتد [کافر] بنانے کیلئے کھول دیئے۔
 
عیسائ تحریک چلانے کیلیے ۹۰۰۰۰ ہزار بنگلہ دیش میں لڑکیوں کی بھرتی کی۔
 
 
 
حضرت مدظلہ نے ایک قصہ سنایا کہ ایک مرتبہ عیسائ پادری نے ایک غریب آدمی کو مرتد اور عیسائ بنانے کیلئے پیسہ دینا شروع کر دیا۔ وہ جب پیسے وصول کرتا تھا اپنے وفاداری کا اظہار کرتا تھا۔ گھر جا کر استغفار کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں مسلمان ہوں پیسے ہی کیلئے یہ کرتا ہوں۔ عیسائ پادری کو معلوم ہوا کہ یہ گھر جا کر استغفار پڑھتا ہے تو پیسہ دینا بند کر دیا کہ تو ہمارا وفادار نہیں۔ ہاں آپ کا امتحان ہو گا کامیابی کی صورت میں پیسہ اور تنخواہ جاری کرا دیں گے۔ ان ظالموں نے امتحان یہ لیا کہ اس غریب کو حکم دیا کہ قرآن مجید [نعوذ باللہ] اپنے پاوں کے نیچے لو اور اس آدمی نے ایسا کیا۔
 
مولانا صاحب نے علماء کو سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کے ایمان کو مضبوط اور دین کو سکھانے کی کوشش کریں تاکہ یہ غلط قوتیں پیسوں کے عوض ایمان کو خرید نہ سکیں۔
 
 
 
حضرت نے بنگلہ دیش کے ہسپتالوں میں این جی اوز کے ایجنٹ ڈاکٹروں کے سرگرمیوں کا حال بھی بتاتے ہوئے فرمایا جو غریب جاہل مریض آتا تھا غلط دوائ دے کر کہتے تھے دوائ سے پہلے سات مرتبہ بسم اللہ  پڑھ کر اللہ تعالی سے شفا کی دعا مانگو جب مریض ایسا ہی کرتے تھے۔ طبیعت مزید خراب ہو جاتی تھی۔ جب واپس آتا تھا۔ مرض کے موافق صحیح دوا دیتے تھے اور کہتے تھے کہ جیسی حضرت عیسیٰ علیہ السلام صحت دے تو صحت مند ہو جاتا تھا وہ ان کو اس طرح اپنے جال میں پھنسا کر مرتد اور عیسائ بنا لیتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو عیسائیت حق ہے۔ مولانا صاحب نے فرمایا یہی حال پاکستان اور  ہندوستان کا ہے کہ بڑی تیزی سے کام جاری ہے۔ این جی اوز اپنی تحریک اس طرح چلاتے ہیں کہ دفتر میں مرد اور عورت بغیر پردہ اکھٹے ہوں۔ ایک گاڑی میں بغیر پردہ سفر کرتے ہیں لوگوں کو سلائ والی مشینیں، ڈیموں، لٹرینوں کے لالچ دیتے ہیں۔ این جی اوز کی عورتیں گھروں میں جاتی ہیں اور عورتوں کو کہتی ہیں کہ ہمارے دفتر میں آئیں۔ ہم بچوں، گھروں کی صفائ کی ٹریننگ دیں گے۔ تم اتنی غربت کی زندگی گزارتی ہو۔ این جی اوز میں ملازم بنو۔ بڑی تنخواہ ہو گی۔ اصل مقصد دین سے نکالنا ہے۔
 
تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ این جی اوز  والے جہاں جہاں ہوں ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے علاقوں سے نکالیں۔ ان کے رہائشوں میں رکاوٹیں پیدا کریں۔ ان سے محبت کرنا، کرایہ پر مکان یا گاڑی دینا غضب اور قہر الہی کو دعوت دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت فرمائیں اور ایسے فتنوں سے ہماری حفاظت فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔




Maulana-Muhib-Ullah-Signature