حضرت مولانا محب اللہ

حضرت مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ العالی کی تاریخ پیدائش ء بمطابق 3 ذیقعدہ 1372ہجری ہے ۔ آپ کی جائے پیدائش نانا صاحب کے گھر ضلع ژوب ہے ۔ آپ کے والد ماجد کا نام حضرت ملا نوابرحمۃ اللہ علیہ اور قوم کبزئیہے ۔ آپکے والد ماجد نے تقریباً پندرہ سال افغانستان میں تحصیل علم کیلئے بڑی مشقت کی زندگی گذاری اور ساتھ ساتھ تزکیہ نفس کیلئے مجاہدات، ریاضات میں لگے رہے اور پیر طریقت عالم باعمل حضرت مُلا عبدالخلاق اخندزادہرحمۃ اللہ علیہ سے خلافت ملی۔ آپکے والد ماجد اپنے علاقے میں صبر، توکل ، اعتماد علی اللہ میں ضرب المثل تھے۔ حضرت ملا نواب رحمۃ اللہ علیہ کے پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں میں حضرت مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ سب سے بڑے ہیں۔

علم ظاہری

حضرت مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ نے ابتدائی تعلیم مرغہ کبزئی ضلع ژوب میں اپنے نانا جان حضرت ملا عبدالخلاق اخندزادہ رحمۃ اللہ علیہ کے مدرسہ فیض العلوم میں حاصل کی۔ موقوف علیہ تک تمام کتابیں اسی مدرسہ میں پڑھیں۔ آپ کے اساتذہ کرام میں مولانا محمد دین موسیٰ خیلیرحمۃ اللہ علیہ فاضل دارالعلوم دیوبند، شیخ الحدیث مولانا اللہ داد کا کڑصاحب، مولانا محمد ہاشمرحمۃ اللہ علیہ، مولانا سید محمدرحمۃ اللہ علیہ اور مولانا شاہ میرانرحمۃ اللہ علیہ جیسی نامور اور قابل قدر شخصیات شامل ہیں۔ دورہ حدیث شریف مدرسہ تنویر القرآن ژوب میں مولانا اللہ داد کاکڑ صاحب اور مولانا جان محمدصاحب سے مکمل کیا۔ حضرت مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مدرسہ فیض العلوم مرغہ کبزئی مدرسہ دارالعلوم اسلامیہ لورالائی اورمدرسہ مفتاح العلوم قاسمیہ میں پڑھاتے رہے ۔ پھر نزد کمشنری لورالائیمیں اپنا مدرسہ قائم کر لیا۔

علم باطنی

مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ نے اپنے نانا جان حضرت ملا عبدالخلاق اخندزادہ رحمۃ اللہ علیہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت کی۔ حضرت ملا عبدالخلاق اخندزادہ رحمۃ اللہ علیہ کو قادریہ اور نقشبندیہ دونوں سلاسل میں خلافت ملی ہوئی تھی اور پاکستانکے علاوہ افغانستان میں بھی انکے مرید تھے ۔ انکے انتقال کے بعد مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ نے اپنے والد صاحب ملا نواب رحمۃ اللہ علیہ سے سلوک جاری رکھا ۔ بقول مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ کے "والد صاحب مجھے بار بار اپنے سامنے بٹھاتے تھے اور تیز توجہات سے نوازتے تھے۔ انکا کہنا ہے کہ ایک دن میں والد صاحب کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ انہوں نے تیز توجہ ڈالنا شروع کی ایسامحسوس ہوا تھا کہ یہ دنیا کا منظر نہیں بلکہ آخرت کا منظر ہے "۔ 1988ء میں حضرت ملا نواب رحمۃ اللہ علیہ فوت ہوئے ۔ مولانا مدظلہ فرماتے ہیں کہ والد صاحب کی وفات کے بعد میں سوچتا تھا کہ جب مرشد فوت ہو جائے تو دوسرے مرشد کی ضرورت نہیں مگر کتاب میں دیکھا کہ مرشد کی وفات کے بعد زندہ مرشد سے تعلق بنانا ضروری ہے ۔ اسی غرض سے میں نے مختلف مقامات کا سفر کیا۔ اس دوران کسی نے مجھے حضرت خواجہ خان محمد رحمۃ اللہ علیہ کا بتایا ۔ میں نے استخارہ شروع کیا۔ اس کے بعد میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت خواجہ خان محمد رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ پر توجہ کی۔ توجہ کے انوارات اتنے زیادہ تھے کہ میری برداشت سے باہر ہوگئے اور میں ایک دم نیند سے بیدار ہوا تو میں نے سوچا کہ وہاں سے حضرت خواجہ خان محمدصاحب نور اللہ مرقدہ کی توجہ اتنی طاقتور ہے تو وہاں جا کر کیا عالم ہوگا۔ غرضیکہ بیعت کی نیت سے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقد ہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور حضرت نے مجھے سلسلہ نقشبندیہمیں بیعت فرمایا۔ مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ 22سال حضرت خواجہ خان محمد صاحب کی خدمت میں رہے۔ اسی دوران 1995ء کے ماہ رمضان میں حضرت خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ کو خلافتسے نوازا۔