فتنہ مماتی جو اپنے آپ کو مرکزی اشاعت تو حیدوسنت یا اشاعت توحید وسنت کہتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا منکر ہے (نعوذ باللہ) اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سماع کا بھی منکر ہے۔
 
عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم علمائے دیوبند کی نظر میں
 
1۔جمیع علماء دیو بند کا عقیدہ :
 
"ہمارے نزیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبرشریف میں زندہ ہیں۔
 
2۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ
 
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں"
 
3۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ
 
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام بالیقین قبر میں زندہ ہیں"
 
4۔ محدث العصر حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ
 
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کہ انبیاء کرام علیہم السلام زندہ ہوتے ہیں مطب یہ نہیں کہ فقط ان کی ارواح زندہ ہیں بلکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام روح وبدن کے مجموعہ کے ساتھ زندہ ہیں۔
 
5۔حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
 
"حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر میں زندہ ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو اس عالم کا رزق دیا جاتا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نماز پڑھتے ہیں جو کہ صرف لذت حاصل کرنے کیلئے ہے"
 
6۔حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ
 
"اکابر علماء دیو بند وفات ظاہری کے بعد انبیاء علیہم السلام کی حیات جسمانی کے صرف قائل ہی نہیں بلکہ مثبت بھی ہیں اور بڑے زور وشور سے اس پر دلائل قائم کرتے ہیں"
 
7۔ رئیس المفسرین مولانا حسین علی واں بھچراں رحمۃ اللہ علیہ
 
"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے میری قبر کے پاس درود شریف پڑھا تو میں خود سنتا ہوں جس نے دور سے پڑھا تو مجھے پہنچایا جاتا ہے "
 
8۔ شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ
 
"علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے قول بدیع میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اپنی قبر شریف میں اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)کے بدن اطہر کو زمین نہیں کھا سکتی اور اس پر اجماع ہے ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی حیات میں مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے اور علامہ سیوطی نے بھی اس موضوع پر مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے"
 
9۔ حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ
 
اکابر دیو بند برزخ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی حیات کے قائل ہیں علماء دیو بند اس کے اقراری ہیں کہ آج بھی امت کے ایمان کا تحفظ گنبد حضراء کے منبع ایمانی سے ہو رہا ہے ۔
 
10۔حضرت امام الاولیاء مولانا احمد علی لاہور رحمۃ اللہ علیہ
 
"میرا عقیدہ وہی ہے جو حضرات اکابر علماء دیوبند کا ہے کہ انبیاء (علیہم الصلوۃ والسلام )اپنی قبروں میں اسی جسد عنصری سے زندہ ہیں جو اس دنیا میں تھا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا ابدان دنیاوی کے ساتھ اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہونا اہلسنت والجماعت کا اجماعی اور متفقہ عقیدہ ہے "
 
11۔ شیخ العرب والعجم حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ
 
حضرت مولانا درخواستی رحمۃ اللہ علیہ نے 1362ھ میں فریضہ حج ادا کر نے کے بعد روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اشعار کہے وہ یہ ہیں۔
 
ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں کہ دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام زندہ ہیں اور زمین پر حرام ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو کھائے ۔ انبیاء علیہم السلام کی حیات شہدا ء کی حیات سے اعلیٰ اوراکمل ہے اور انبیاء علیہم السلام کی شان زمین اور آسمان میں بہت اونچی ہے ۔
 
12۔ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ
 
"میرا اور میرے اکابر کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے روضہ مطہرہ میں حیات جسمانی کے ساتھ حیات ہین یہ حیات برزخی ہے مگر حیات دنیوی سے بھی قوی تر ہے ۔ جو حضرات اس مسئلہ کے منکر ہیں میں ان کو اہل حق نہیں سمجھتا ۔ نہ وہ علماء دیو بند کے مسلک پر ہیں"
 
 
 
بندہ ناچیز محب اللہ عفی عنہ کا شفقت والا مشورہ
 
مماتی حضرات سے التماس ہے کہ ہر چیز میں انصاف ضروری ہے ، خصوصاً انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے بارے میں ۔ جوآدمی اپنی گدھی پر کچھ پرچون کا سامان لاکر گھروں کے دروازوں پر فروخت کرتا ہے اس کے پاس کچھ سامان تو ہوتا ہے لیکن ہر چیز نہیں ۔ دوسری طرف بازار میں بڑی بڑی دکانوں پر ہر چیز مل جاتی ہے ۔ گدھی پر لادکر گھر گھر فروخت کرنے والے اوربڑی بڑی دکانوں کا تقابل نہیں ہوسکتا۔ مماتی حضرات نے تھوڑا سا علم سیکھا ہوا ہے اور یہ اس کے حقیقی معنی سے بھی واقف نہیں۔ ایسے بڑے بڑے حضرات جن کا اوپر ذکرآیا ہے علم کے دریا ہیں اور ان سے موازنہ نہیں ہوسکتا جیسے دیوبند کے حضرات حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ مولانا اشرف علی تھانوری رحمۃ اللہ علیہ، مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا حسین علی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ ، مولانا عبداللہ درخواستی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا یوسف لدھیانوری شہید رحمۃ اللہ علیہ، خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ اب یہ لوگ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے ہیں کیا وہ اللہ تعالیٰ کو جواب دے سکتے ہیں کہ ہم ان حضرات اور دوسرے بڑے حضرات سے علم اور تقویٰ میں بہتر تھے؟ منکرین حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی مماتی حضرات روز قیامت رسول اللہ علیہ وسلم سے کہہ سکتے ہیں کہ مین ان حضرات سے علم وعمل میں بہتر تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کو نہیں مانتا تھا؟ مماتی حضرات کو میں مشورہ دیتا ہوں کہ تم لوگ ایسی سنگین گستاخانہ بات سے سچی تو بہ کر لو کیونکہ اگر کوئی آدمی زندہ شخص کو کہے کہ تم مردہ ہو، نہ چل سکتے ہو، نہ سن سکتے ہو، نہ اٹھ سکتے ہو، نہ بول سکتے ہو تو کیا وہ زندہ شخص اس آدمی سے ناراض  نہ ہوگا کہ میں زندہ ہوں اور تم مجھے مردوں میں شمار کرتے ہو۔ جاؤ جب میں مردہ ہوں تو تمہارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کروں گا۔
 
اسی طرح اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے ناراض ہوگئے کہ میں زندہ تھا آپ نے مجھے مردوں میں شمار کیا تو تمہارا کیا حشر ہوگا۔ زندہ کو مردہ کہنا برُ ی بات ہے اور زندہ کو زندہ کہنا اکرام ہے ، اسی وجہ سے اللہ جل جلالہ نے شہدا  ء کو مردہ کہنا حرام فرمایا ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شفاعت سے انکار کیا کہ جاؤ اللہ تعالیٰ نے مجھے حیات کا اکرام دیا تھا ، تم نے ممات کی بے احترامی سے موصوف کیا تو آپ کا کیا حشر ہوگا؟ یہ سب بڑے بڑے علماء کرام ، اولیا ، عظام ہیں ، ان پر اعتماد کرو اور اپنی تھوڑی سی معلومات پر اعتماد مت کرو۔ آپ نے اگر بات نہ مانی تو نہ میرا نقصان ہے نہ انبیاء کرام علیھم السلام کا، نقصان صرف اور صرف تمہارا اپنا ہوگا۔ مماتی حضرات کے پاس دین کی تمام باتیں چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعوذ باللہ مردہ ہونے کی بات رہ گئی ہے اور لوگوں کو یہی سکھا رہے ہیں ۔ کیا دوسری تمام دینی خدمات ختم ہو گئی ہیں؟ اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ عطا فرمائیں۔ آمین۔
 
 
 
قرآن وسنت کے روشنی میں عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم
 
1۔قرآن پاک میں شہدا ء کے بارہ میں حیات ثابت ہے اور تم بھی مانتے ہو تو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی حیات ضرور ثابت ہوتی ہے ۔
 
2۔حضرت سلمان علیہ الصلوۃ والسلام کے عصا کو کیڑوں نے کھا لیا سختی کے باوجود لیکن انکے جسم کر نرمی کے باوجود بھی نہیں کھایا کیونکہ ان کے جسم اطہر میں حیات موجود تھی۔
 
3۔ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں قرآن پاک میں خر آیا ہے سقط نہیں آیا ۔ خر زندہ کے گر نے کو جبکہ سقط بے جان کے گرنے کو کہا جاتا ہے ۔ اس سے حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثابت ہوتی ہے ۔
 
4۔ قرآن پاک میں ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔"اور لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آویں جو کہ ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو یوں کہہ دیجئے کہ تم پر سلامتی ہے تمہارے رب نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کر لیا ہے ۔" یہ حکم قیامت تک کیلئے عام ہے ، ماقبل الموت ومابعدالموت۔
 
5۔ قرآن پاک میں ہے کہ "اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور ) مہربان پاتے ۔ "
 
"حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن کے تین روز بعد ایک بدوی نے روضہ اقدس پر حاضر ہو کر اس آیت کریمہ سے مغفرت طلب کی روضہ اطہر سے صدا آئی انہ قد غفرلک ۔
 
6۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "(حضرات )انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز ادا فرماتے ہیں "اس حدیث کو روایت کیا ہے مسند بزار اور ابویعلی نے ، مجمع زوائد جلد 8صفحہ 211 مسند ابو یعلی جلد6حدیث 3425، فتح الباری جلد 6صفحہ 487، الجامع صغیر صفحہ 124بیہقی حیات الانبیاء صفحہ 3وغیرہ وغیرہ
 
7۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا معراج کی رات حضرت موسیٰ علیہ السلام پر گزر ہوا تو وہ سرخ ٹیلے کے پاس اپنی قبر میں کھڑے نمازپڑھ رہے تھے ۔ صحیح مسلم جلد 2صفحہ268مسند احمد جلد3صفحہ148سنن نسائی جلد 1صفحہ 242وغیرہ وغیرہ
 
8۔ مشکوۃ شریف صفھہ154حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں اپنے اس کمرہ میں جس میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں بلا حجاب داخل ہو جاتی تھی اور سمجھتی تھی کہ ایک تو میرے شوہر ہیں اور دوسرے میرے والد صاحب پس جب ان کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی تو اللہ کی قسم میں اس حجرہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حیاء کی وجہ سے بغیر پردہ کبھی نہ جاتی تھی۔ علامہ طیبی شارح مشکوۃ لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں ایک امرکی دلیل ہے کہ میت کا احترام بھی اسی طرح کیا جائے کہ جس طرح زندگی میں کیا جاتا ہے ۔
 
9۔ حضرت سعید المسیب رحمۃ اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ میں واقعہ حرہ کے دنوں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف سے اذان اور اقامت کی آواز سنتا رہا ۔ یہاں تک کہ لوگ واپس آ گئے ۔
 
10۔ ہر مسئلہ میں صریح آیت ضروری نہیں ۔ اگر مماتی حضرات اس مسئلہ میں صریح آیت طلب کریں تو پھر انہیں گدھے کا گوشت کھانا چاہئے کیونکہ اس کے نہ کھانے میں کوئی صریح آیت موجود نہیں ہے ۔ اسی طرح بندر کا بھی یہی حکم ہوگا مماتی حضرات کیلئے۔
 
11۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جو بتایا کہ مات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہر ی موت بھی نہیں آئی ہے ۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام کر رہے ہیں ابھی اٹھ جائیں گے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیاکہ ظاہری موت تو آئی ہے آیت افان مات سے بھی مراد ہے ۔ حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شہدا ء سب زندہ ہیں۔ شہدا ء صریح آیت سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دلالۃ النص سے ۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے بارے میں صریح آیت ہوتی تو مماتی حضرات کافر سمجھے جاتے۔ لہٰذا اس فتنہ کو ضال مضل ( خود گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنیوالا) بدعتی، اہلسنت  والجماعت سے خارج مانا جائیگا اور اس فتنہ کا علماء دیو بند سے کوئی تعلق نہیں انکے پیچھے نماز پڑھنا مکرو ہ تحریمی ہے اور گمراہ کرنے کے خطرہ سے بچوں کو ان سے تعلیم دلوانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔