Impressions - Hazrat Maulana Khwaja Khan Muhammaad

By

Maulana Muhib Ullah

تاثرات

الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی اما بعد!

شیخ المشائخ امام الوقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میانوالی والے ختم نبوت کے عالمی امیر تھے اور جمعیت العلماء اسلام کے سر پرست تھے۔ علم ظاہری میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل اور سند یافتہ تھے اور علم باطنی میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ معصومیہ میں امام وقت تھے۔ ان کا انتقال موت العالم موت العالم یعنی عالم کی موت عالم کی موت ہے کا مصداق ہے ۔ مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور مہتمم جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاون کراچی نے بندہ ناچیز محب اللہ عفی عنہ سے حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ(جو کہ بندہ ناچیز کے مرشد کامل، راہبر صادق ، محسن مخلص تھے۔ اللہ تعالیٰ انکو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوار اور ہمنشینی نصیب فرمائیں) کے بارے میں تاثرات طلب فرمائے تھے اس وجہ سے بندہ ناچیز نے مختصر طور پر دس تاثرات لکھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت خواجہ خان محمد نور اللہ مرقدہ کی حرمت اور برکت سے اس کتابچے کو قبول فرمائیں اور اپنے بندوں کی ہدایت اور وصولی الی اللہ کا واسطہ بنا دیں اور علم باطنی کی حقیقت کو سمجھانے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔ عام مسلمانوں کے لئے رضائے الہٰی اورجنت الفردوس کا وسیلہ بنادیں اور شیطان علیہ اللعنت اور جہنم اور غلط ماحول سے بچنے کا موثر طریقہ بنادیں اور دنیا وآخرت کی کامیابیوں کا واسطہ بنا دیں آمین یاارحم المحتاجین۔ جس نے آمین کہا اس کے لئے بھی کامیابی دارین کا واسطہ بنا دیں۔
بندہ ناچیز عرصہ 22سال اپنے شیخ مرحوم کے زیر سایہ رہا۔ باقی دنیا تو اپنی جگہ، صرف مجھ کو جوفائدے ملے ہیں وہ شمار میں نہیں آسکتے ۔ احقر کو بے حد دینی ودنیاوی ، ظاہری وباطنی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ بڑے بڑے باصلاحیت حضرات کو جو فوائد پہنچے ہوں گے ان کا تو کیا پوچھنا ۔ غرض میرے مرشد کا مل کے کمالات ومناقب وتاثرات نہ زبان سے بیان کئے جاسکتے ہیں نہ قلمبند کئے جاسکتے ہیں۔

تاثر1۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی زندگی میں بیعت کی خاص اہمیت تھی

حضرت اگرچہ دین کے مختلف شعبوں میں کام کرتے تھے مگر حضرت کی زندگی میں بیعت کرنے کے عمل کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔
اہمیت بیعت قرآن پاک واحادیث مبارکہ اور بزرگوں کے اقوال کی روشنی میں

Aal-i-Imraan – Verse 164

لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ

دلیل نمبر1۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ذمہ داری اور منصب یوں بتایا۔1۔قرآن پاک زبانی بتانا۔ 2۔قرآن پاک کے معنی بتانا۔ 3۔حدیث مبارکہ بتانا۔ یہ تینوں کام علم ظاہر والے علماء نے مدارس کی شکل میں سنبھال لئے ہیں۔ 4۔ تزکیہ نفس کرانا یعنی تعلیم کے علاوہ عملی نگرانی کرانا ۔ یہ ذمہ داری علماء علم باطن نے سنبھالی ہے جو کہ خانقاہوں میں پوری کی جاتی ہے۔


دلیل نمبر2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ ممتحنہ میں حکم ہوا کہ مومنات خواتین کو بیعت میں قبول کریں یہ بیعت اسلام اور بیعت جہاد نہیں تھی بلکہ بیعت اصلاح اور تزکیہ نفس کے لئے تھی۔
دلیل نمبر3۔اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کو فرض قرار دیا اور زندہ نیک لوگوں کے ساتھ رہنا بھی فرض قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

At-Tawba Verse 119

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

یعنی اے ایمان والو تقویٰ اختیار کرو اور ہو جائو نیک لوگوں کے ساتھ ۔ مقصد یہ ہوا کہ نیک لوگوں (جو زندہ ہوں) کی صحبت اختیار کرنے سے متقی بننا آسان ہوجاتاہے اور مرشد کامل نیک آدمی ہی ہوسکتا ہے ۔ مرشد کامل کی بیعت وصحبت سے مرید بغیر وعظ ونصیحت کے تقویٰ والا بن جاتا ہے ۔


دلیل نمبر4۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی اپنے گہرے دوست کے دین پر ہوتا ہے
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصول وضع کیا کہ جس کا دوست اچھا ہوگا وہ اچھا ہوگا۔ اور جس کا دوست برا ہوگا وہ را ہوگا۔ مرشد کامل ہی گہرا دوست ہونا چاہئے ۔ دنیا کا ہر کام ہم نشینی کے ذریعہ ہی آسان ہوتا ہے اور دین بھی اسی طرح ہے ۔

وضاحت کے لئے مثال ہے کہ پانی کے دوتالاب ہیں۔ ایک میں مچھلیاں ہیں دوسرے میں نہیں۔ جس میں مچھلیاں نہیں ہیں وہ چاہتا ہے کہ میرے اندر بھی مچھلیاں ہو۔ اب مچھلیاں آنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ جس تالاب میں مچھلیاں ہیں اس سے دو سرے تالاب کو پانی کا راستہ کھول دیا جائے تاکہ پانی میں دوسرے تالاب تک مچھلیاں پہنچ سکیں۔ خشکی سے مچھلیاں نہیں گذر سکتیں۔ اسی طرح مرشد کامل کا دل محبت الہٰی، معرفت الہٰی اور عشق وتقویٰ سے بھرا ہوتاہے۔ جس کا دل چاہتا ہے کہ میرے دل میں بھی محبت، معرفت، تقویٰ اور عشق الہٰی آجائے تو اس کو چاہے کہ اپنے دل کے تالاب کو مرشد کامل کے دل کے تالاب سے بیعت کے ذریعہ سے اتصال کر لے ۔ وہی محبت ومعرفت وعشق الہٰی وتقویٰ واتباع سنت واجتناب ازبدعت ونافرمانیاں مرید کے دل میں آنا شروع ہو جائیں گی۔ انوارات وفیوضیات منتقل ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نصیب کرے۔

مرشد کا مل کی بیعت کی کیا ضرورت واحتیاج ہے ؟

سوال : کیا اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں جو اعمال اور اذکار بتائے ہیں وہ ہدایت اور تقویٰ محبت ومعرفت وعشق الہیٰ پیدا کرنے کے لئے اورنفس وشیطان وغلط ماحول سے بچانے کے لئے کافی نہیں ہیں۔ پھر مرشد کامل کی بیعت کی کیا ضرورت واحتیاج ہے؟

جواب: گذرے ہوئے دلائل سے پتہ چلتا ہے کہ صرف تعلیم سےکام نہیں بنتا جب تک کہ مرشد کامل کی صحبت ونگرانی نہ ہو بڑوں کے اقوال بھی یہی ہدایت دیتے ہیں
بیعت کی اہمیت بڑوں اور بزرگوں کے ارشادات کی روشنی میں
حکیم الامت مجددملت حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ حقیقۃ التصوف والتقویٰ اور آداب معاشرۃ میں لکھتے ہیں کہ ایک ہے ترجمہ سیکھنا وہ مدارس سے ملتا ہے ۔ دوسرا ہے ترجمہ اپنے آپ میں لانا وہ خانقاہوں سے مرشدکامل کی صحبت سے مل جاتا ہے ۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ ملفوظات کمالات اشرفیہ صفحہ 183میں فرماتے ہیں کہ بدون صحبت شیخ اگر کوئی لاکھ تسبیح پڑھتا رہے کچھ نفع نہیں۔ حضرت خواجہ صاحب (حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلقین میں سے) نے عرض کیا کہ حضرت خود ذکر اللہ میں یہ کیفیت ہونی چاہئے تھی کہ وہ خود کافی ہوجایا کرتا، صحبت شیخ کی کیوں قید ہے؟ فرمایا کہ کام توذکر اللہ ہی بنا وے گا لیکن عادت اللہ یوں ہی جاری کہ بدون شیخ کی صحبت کے ہر ذکر کام بنانے کے لئے کافی نہیں۔ اس کیلئے صحبت شیخ شرط ہے ۔ جس طرح کاٹ جب کرے گی تلوار ہی کرے گی ۔ لیکن شرط یہ ہے کہ وہ کسی کے قبضہ میں ہو ورنہ اکیلی تلوارکچھ نہیں کر سکتی۔ گوکاٹ جب ہوگا تو تلوار ہی سے ہوگا۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ نے ایک شعر لکھا
تین حق مرشد کے ہیں رکھ ان کو یاد اعتقاد واعتماد وانقیاد (صفحہ37)

مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بیعت کے وقت اجمالاً(مرشد) کے ذریعہ سے القائے نسبت ہوجاتی ہے یعنی مناسبت اجمالی حق تعالیٰ کے ساتھ پیدا ہوجاتی ہے ۔ اہل اللہ کے ساتھ تعلق ہوگیا تو گویا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ہوگیا۔ بیعت سے گویا ایک خصوصیت ہوگئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ(کمالات اشرفیہ صفحہ245)۔
شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمتہ اللہ علیہ صقالۃ القلوب میں لکھتے ہیں کہ ایک ہے علم نبوی وہ کتابوں سےملتا ہے ۔ دوسرا ہے نوری نبوی وہ سینوں (مرشد کامل کے سینے سے )ملتا ہے ۔

فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ تعالیٰ کا ہدایت آموز واقعہ


حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی جو اپنے زمانے میں فقیہ العصر کا لقب رکھتے تھے صرف زیار ت کے لئے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوئے۔ واپسی کا عرض کیا کہ تدریس کی وجہ سے طلباء انتظار میں ہیں۔ حضرت نے رات گذارنے کا فرمایا ۔ مولانا نے کہا کہ خانقاہ میں رش کی وجہ سے نیند میں خلل آئے گا۔ حضرت نے فرمایا کہ خانقاہ والوں کو سمجھا دوں گا۔ مولانا نے بتایا ٹھیک ہے صبح واپس چلا جاوں گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ رات وہاں پر سو گئے۔ فرماتے ہیں کہ تہجد کے وقت میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا بہت سارے لوگ نوافل پڑھ رہے ہیں۔ تلاوت کر رہے ہیں، تسبیحات کر رہے ہیں۔ کچھ بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں۔ میرے دل میں خیال آیا کہ رشید احمد ورثۃ الانبیاء میں شامل ہونے کی تمنا میں تو آگئے ہوانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا خلق تو یہ تھا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں پاک میں ہے کہ

Adh-Dhaariyat – Verse 17

كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ
وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

As-Sajda Verse 16

تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ

خانقاہ شریف کا ماحول دیکھنے سے صحابہ کا نقشہ یاد آیا اور اس سے متاثر ہوئے۔ وضو کیا، نفل پڑھے، بیٹھ کر ذکر شروع کر دیا۔ نماز صبح کے بعد حضرت سے واپسی کا عرض کیا۔ حضرت نے فرمایا مولانا ذکر تو کر رہے ہو تو سیکھ کر ذکر کر لو۔ مولانا کو کوئی جواب نہیں آیا۔ آخر بتایا کہ حضرت مجھے بیعت کر لو۔ حضرت نے اسی وقت بیعت کے کلمات پڑھائے اور ذکر سکھایا۔ مولانا فرماتے ہیں ان کلمات کو پڑھ کر میرے دل میں ایسی کیفیت ہوئی کہ میں نے سوچا ساری عمر میں نے پڑھانا ہی ہے مگر اپنی اصلاح کے لئے بھی کچھ وقت ہونا چاہئے ۔ مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے عرض کیا کہ حضرت ایک ماہ قیام کروں گا۔ ایک ماہ میں حضرت حاجی صاحب نے توجہات دیں، ذکر کرایا حتیٰ کہ حضرت کے اندر نسبت کا نور چمکنے لگا۔

مرشدکامل مرید کا امتحان لیتا ہے ۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ ایک صاحب نے کھانے کی دعوت دی تو حضرت رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کو بھی ساتھ لے گئے۔ حضرت نے ان کو دسترخواں کے کونے پر بٹھایا، ہلکا کھانا ان کو کھلایا اور ساتھیوں کومرغ اور اچھا کھلایاگیا۔ حضرت نے فرمایا کہ رشید احمد میرا دل چاہتا ہے کہ تجھے جوتوں میں بٹھا تا مگر میں نے کہا چلو تمہیں دسترخواں کے کونے میں ہی بٹھا دیتے ہیں۔ حضرت نے ان کے چہرے کو دیکھا کہ ناگواری محسوس ہوتی ہے یا نہیں۔ تو مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ نے بالکل تازہ چہرہ اور کشادہ پیشانی سے عرض کیا کہ حضرت میں تو جوتوں میں بیٹھنے کے قابل بھی نہیں تھا آپ نے مجھ پر احسان کیا کہ دستر خواں پر بیٹھایا ۔ حضرت نے فرمایا الحمد للہ اس میں جو نفس تھا وہ مٹ چکا ہے ، مرچکا ہے۔ حضرت نے ان کو خلافت دی۔ مولانا نے عرض کیا حضرت میں کچھ نہیں ہوں مجھے کیوں خلیفہ بنایا۔ حضرت نے فرمایا اسی وجہ سے خلافت دیتاہوں کہ تم سمجھ رہے ہو کہ تم کچھ نہیں ہو ، اگر تم اپنے آپ کو کچھ سمجھتے تو پھر آپ خلافت کے قابل نہ ہوتے ۔

ایک مہینہ کے بعد مولانا رشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ گنگوہ آگئے۔ ایک ماہ وہاں پر کام کرتے رہے۔ ایک ماہ کے بعد پھر حضرت حاجی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ تو حضرت نے اس سے پوچھا۔ میاں رشید احمد بیعت سے کچھ تبدیلی نظر آئی۔ مولانا تھوڑی دیر سوچتے رہے،پھر فرمانے لگے، تین تبدیلیاں نظر آئیں، پوچھا کونسی ہیں؟ 1۔پہلے شریعت پر عمل کرنے کیلئے اپنے نفس کو مجبور کرنا پڑتا تھا اب بے تکلفی کے ساتھ شریعت پر عمل ہوجاتا ہے ۔ یعنی طبعیت شریعت کے موافق بن گئی۔ شریعت جس طرح چاہتی ہے ۔ طبعیت بھی اسی طرف جاتی ہے۔ 2۔پہلے مطالعہ میں نصوص کے درمیان تعارض نظر آتا تھا۔ اب نصوص کے درمیان تعارض ختم ہوگیا کہیں تعارض نظر نہیں آتا۔ 3۔مجھ پہلے کسی مدح سے خوشی اورذم سے ناراضگی محسوس ہوتی تھی۔ ا ب دونوں برابر ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے مخلوق راضی ہو یا ناراض ہو کوئی پرواہ نہیں۔
حضرت نے بتایا، الحمدللہ دین میں تین درجے ہیں، علم ، عمل اور اخلاص ۔ علم میں دو درجے ہیں۔ علم غیر کامل اور علم کامل ۔ علم غیر کامل عام علم ہوتا ہے۔ علم کامل وہ ہوتا ہے کہ جو نصوص کے درمیان تعارض نظر نہیں آتا ۔ عمل بھی ناقص اور کامل، عمل ناقص وہ عام عمل ہوتا ہے۔ عمل کامل وہ ہوتاہے کہ طبیعت شریعت کے مطابق بن جائے۔ اخلاص کے دو درجہ ہیں۔ اخلاص ناقص اور اخلاص کامل۔ اخلاص ناقص عام اخلاص ہوتا ہے ۔ اور اخلاص کامل وہ ہوتا ہے کہ مدح ذم کی پرواہ نہ رہے۔ ایقاط اللھم شرح الحکم تصوف کے موضوع پر مرکزی کتاب ہے۔ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میانوالی سے ملتی ہے ۔ اس میں لکھا ہے ۔ من لم یکن لہ شیخ فشیخہ الشیطن۔ ترجمہ جس شخص کا مرشد کامل نہ ہو، تو اس کا مرشد شیطان ہوتا ہے ۔ یعنی جب مرشد کامل کی رہبری نہ ہوتو اس کا رہبر شیطان علیہ العنت ہوتا ہے۔

مرشد کا مل کی صحبت اور نگرانی کو کیوں ضروری قرار دیا؟

سوال: کیا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث مبارک جو اعمال اذکار بتائے ہیں ہدایت اور تقویٰ کیلئے کافی نہیں ہیں۔ مرشد کامل کی صحبت اور نگرانی کو کیوں ضروری قرار دیا ؟

جواب نمبر1۔مفتی اعظم مولانا مفتی محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ معارف القرآن میں لکھتے ہیں کہ ہدایت کے لئے صرف قرآن پاک کا پڑھنا(چاہے لفظ کے ساتھ یامعنی کے ساتھ) کافی نہیں جب تک قرآن پاک پر عمل کرنے والوں کی صحبت(مرشد کامل ) اختیار نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک اتارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا کہ قرآن پاک پر عمل کرو اس طرح کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل کو دیکھ کر اتباع کرو۔ اگر اس کی ضرورت نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ لوگوں کی اپنی زبان میں صرف قرآن پاک نازل فرماتے کہ اس پر عمل کرو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ بلکہ کتاب اللہ کے ساتھ رہبر بھی بھیجا (یعنی زمانے کا رسول)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس رہبری کے لئے مرشد کامل ہوتا ہے کیونکہ مرشد کامل پر مرید کو اعتقاد ، اعتماد انقیاد ہوتا ہے۔ نفع حاصل کرنے کیلئے یہ تینوں صفات ضروری ہیں۔ دنیاوی معاشرے میں دیکھیں کہ ماہر کی صحبت کے بغیر کام ناکام ہوجاتا ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسی طرح لکھا ہے کہ مثلاً درزی کتابوں سے پڑھ پڑھ کر لوگوں کے کپڑے نہیں بناسکتا۔ جب تک کسی درزی کی صحبت اختیارنہ کرے۔ اسی طرح ڈاکٹر بننا، ڈرائیوربننا، کھانے پکانے کا ماہر بننا صرف کتابوں کے پڑھنے سے نہیں ہوتا جب تک اسی فن کے ماہر کی صحبت اختیار نہ کی ہو۔ جس پر اعتقاد ، اعتماد، انقیاد ہو۔ اسی طرح تقویٰ، محبت الہٰی ، عشق الہٰی کی دولت تقویٰ والوں محبت اور عشق الہٰی والوں سے ملتی ہے ۔

جواب نمبر2۔ علماء دیو بند کا کردار پوری دنیا مانتی ہے دعوت تبلیغ کی شکل میں یامدارس وسیاست کی شکل میں یا ذکر واذکار ، تزکیہ نفس وختم نبوت یا تصنیف وجہاد کی شکل میں ہو۔ اس کی بنیاد ی وجہ علم ظاہری نہیں تھا بلکہ وہ مرشدین کاملین سے فیض یافتہ تھے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے ملکوں میں بڑے بڑے علماء ظاہر ہوئے ہیں لیکن ان کا کردار اپنے ملک میں بھی نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس علم ظاہر کے ساتھ باطنی علم نہیں ہے۔

جواب نمبر3۔قرآن پاک میں ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

یعنی تقویٰ فرض ہے ۔ تقویٰ حاصل کرنے کیلئے نیک لوگوں کی صحبت بھی فرض ہے ۔ مرشد کامل وہی ہوتا ہے جس کی صحبت سے مرید فائدہ حاصل کر سکتا ہو کیونکہ اس پر اعتقاد، اعتماد، انقیاد ہے ۔ یہ اصول ہے نفع حاصل کرنے کے لئے ۔ یہ عادت اللہ ہے کہ مرشد کامل اور مرید کے درمیان اعتقاد، اعتماد اور انقیاد ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کی صحبت سے ہمیں کامل اور مکمل تقویٰ والا بنا دےآمین!

مرشد کامل کی پہچان

مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے کمالات اشرفیہ میں لکھا ہے کہ پہچان شیخ (مرشد کامل ) یہ ہے کہ شریعت کا پورا متبع ہو۔ بدعت اور شرک سے محفوظ ہو اور جہل کی بات نہ کرتا ہو ۔ اس کی صحبت میں بیٹھنے کا اثر یہ ہو کہ دنیا کی محبت کم ہوتی جائے اور حق تعالیٰ کی محبت زیادہ ہوتی جائے مرید جو مرض باطنی بیان کرے وہ اس کو توجہ سے سن کر اس کا علاج تجویز کرے اور جو علاج تجویز کرے اسی سے نفع ہوتا ہے۔ اس کے اتباع کی بدولت روز بروز حالت درست ہوتی جائے۔ کمالات اشرفیہ صفحہ37

مرشد کامل کا حق : مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس شعر میں شیخ کا حق بتایا ہے۔
تین حق مرشد کے ہیں رکھ ان کو یاد اعتقاد واعتماد وانقیاد (کمالات اشرفیہ صفحہ 37)

کیا نیک لوگ ، جیسے بایزید بسطامی رحمۃ اللہ ، غوث الاعظم ختم ہو گئے؟

سوال: عموماً کہا جاتا ہے کہ آج کل نیک لوگ جیسے بایزید بسطامی رحمۃ اللہ ، غوث الاعظم وغیرہ وغیرہ ختم ہوگئے ہیں اور ایسے حضرات نہیں ملتے؟

جواب: مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے قسم کھائی ہے کہ آج کل بھی ایسے بڑے حضرات ہیں اور قیامت تک ہوں گے ۔ تقویٰ اختیار کرنے کے بارے میں قرآن پاک میں نسخہ ہے کہ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

۔ کہ نیک لوگوں کے ساتھ ہو جاو۔ یہ آیت قیامت تک کے لئے ہے قیامت کے لوگوں کیلئے یہ حکم ہے کہ نیک لوگوں کے ساتھ ہو جاو ۔ تو پتہ چلا کہ قیامت تک نیک لوگ ہوں گے۔ اس کے لئے ایک مثال ہے ، باپ بیٹے سے کہتا ہے کہ دودھ پیتے رہو ، کمزوری ختم ہوجائے گی۔ یہ اس وقت کہ سکتا ہے کہ جب باپ کے پاس دودھ ہو ورنہ نہیں کہ سکتا۔ لیکن نیک لوگوں کے ملنے کے لئے تین شرطیس ہیں مقصود ہو، طلب ہواور پیاس ہو۔ جب آدمی بیمار ہوتا ہے تو اچھے سے اچھے ڈاکٹر تلاش کرتا ہے اسی طرح روحانی ڈاکٹر تلاش کرنے چاہئے جو قیامت تک ملتے رہیں گے۔

تاثر2۔ حضرت خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ اپنے مریدوں کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت فرماتے تھے ۔
تربیت مریدین کے لئے مشہور سلاسل چار ہیں۔ نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ، اس سلسلہ نقشبندیہ کی خصوصیت کے بارے میں حضرت امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص ہمارے طریقہ( سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ) میں داخل ہوا، وہ محروم نہیں رہے گا۔ اور جوازلی محروم ہے وہ ہمارے سلسلہ سے منسلک نہ ہوسکے گا۔
مکتوبات امام ربانی میں یہ بھی لکھا ہے کہ سلسلہ نقشبندیہ میں مرید کی ترقی کا دارومدار اکثر مرشد کامل کی توجہات پر ہوتا ہے۔ اگرچہ ذکر اذکار مراقبات بھی کرنے ہیں۔ اکمال الشیم میں حضرت مولانا خلیل احمد سہار نپوری رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا کہ اللہ والوں کی توجہ سے سب کچھ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر وہ فاسق کی طرف توجہ کرتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے فسق سے توبہ کرتا ہے ۔ اگر کافر کی طرف توجہ فرماتے ہیں وہ کفر سے توبہ کرتا ہے ۔ اگر مریض کی طرف توجہ کرتا ہے اس کو شفا ملتی ہے ۔ صرف تقدیر کی دیوار کو نہیں گراسکتے۔ شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ اپنی شرح بخاری تقریر بخاری میں لکھتے ہیں اللہ والوں کی توجہ چار قسم کی ہوتی ہے۔1۔ توجہ انعکاسی2۔توجہ القائی۔3۔توجہ اصلاحی۔4۔توجہ اتحادی۔
انعکاسی:یہ وہ ہوتی ہے کہ مرشد اپنے مرید کو توجہ کرتا ہے وہ اثر محسوس کرتا ہے مگر یہ اثر مرشد کے موجود رہنے تک رہتا ہے۔ اس کے جانے سے اثر بھی جاتا ہے یہ سب سے ضعیف ہے۔
القائی: وہ ہوتی ہے کہ مرشد کے جانے سے بھی اثر نہیں جاتا مگر گناہ کی نحوست سے جاتا ہے یہ تھوڑی سی قوی ہے۔
اصلاحی: یہ وہ ہوتی ہے کہ مرید خود بھی ذکر اذکار معمولات کا پابند ہو، اس پر مرشد کی توجہ اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ مرید کے گناہ کرنے سے بھی توجہ کااثر اور مزہ ختم نہیں ہوتا بلکہ مستقل جاری رہتا ہے یہ توجہ بہت قوی ہے۔
اتحادی: یہ وہ ہوتی ہے کہ مرشد مرید پر اتنی زور دار توجہ ڈالتا ہے کہ مرید بالکل مرشد جیسا بن جاتا ہے ۔ مولانا زکریارحمۃ اللہ علیہ نے اس کی وضاحت کے لئے باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ پیش فرمایا ہے۔

عجیب واقعہ: حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس چند مہمان آئے ۔ مہمان نوازی کیلئے کچھ نہیں تھا۔ باورچی کو پتہ چلا تو وہ اپنے گھر سے کھانا لایا۔ مہمانوں کا اکرام کیا۔ حضرت بہت خوش ہوئے۔ فرمایا اب کچھ مانگ لو۔ مرید نے کہا کہ میں آپ جیسا بن جاو۔ انہوں نے کہا اور مانگو یعنی اس کے علاوہ کوئی اور چیز مانگو۔ اس نے اس پر اصرار کیا۔ حضرت اس کو کمرے میں لے گئے اور اس پر اتنی زور دار توجہ ڈالنی شروع کر دی یہاں تک کہ مرید اور حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ کی شکل وشباہت ایک جیسی ہوگئی۔ باہر نکلے، پتہ نہیں چلتا تھا کہ حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کون اور باورچی کون ہے؟ صرف اتنا فرق تھا کہ حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ ہوش میں تھے اور مرید بے ہوشی میں تھا۔ تین دن کے بعد انتقال فرمایا ۔ توجہ کو برداشت نہ لاسکے اس کو توجہ اتحادی کہتے ہیں۔

عجیب مثال : کچھوا پانی میں رہتا ہے ۔ انڈے خشکی پر ریت میں دیتا ہے ۔ اور پھر پانی سے انڈوں پر توجہ کرتا ہے۔ بچے نکلتے ہیں۔ اگر کچھوا مر جائے تو انڈے ضائع ہو جاتے ہیں۔

دوسری مثال کونچ ایک لمبی گردن والا پرندہ ہے ۔ گرمیوں میں سائبیریا اور روس جاتا ہے ۔ انڈے وہاں دیتا ہے ۔ سردیوں میں گرم ممالک میں آجاتا ہے پھر یہاں(گرم ممالک ) سے انڈوں کی طرف توجہ کرتا ہے ۔ اس توجہ کے زور سے انڈوں سے بچے نکالتا ہے ۔ اگر وہ مرگیا تو انڈے ضائع ہو جاتے ہیں۔

خلاصہ : اللہ تعالیٰ نے جب کچھوا اور کونچ کی توجہ میں اتنی تاثیر رکھی ہے تو اولیاء اللہ کی توجہات میں کتنی تاثیر رکھی ہوگی مقصد یہ ہے کہ حضرت خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت کرتے تھے ۔ مریدین کے لئے اس میں زیادہ سہولت تھی کہ مرشد کی توجہات سے مرید کو ترقی ملتی ہے اگرچہ زیادہ مجاہدات نہیں ہوتے جیسے دوسرے سلاسل میں ہوتا ہے

مفید مشورہ از بندہ ناچیز محب اللہ عفی عنہ (خلیفہ مجاز حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ )
آجکل انسانوں کو گمراہ کرنے کیلئے مختلف قوی اسباب ہیں جن کی وجہ سے انسان غلط کاموں میں مبتلا ہو کر گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اپنے خالق ، مالک ، رازق جل جلالہ سے دور ہوجاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں مبتلا ہوجاتاہے۔ عبادات ،ذکر واذکار، عمل وتقویٰ ، سنت کا اتباع ، احکام الہٰیہ پر چلنا، آخرت کی فکر کرنا، موت کے بعد ابدالآباد کی زندگی بنانا یہ تمام چیزیں انسان کے دل ودماغ سے نکل جاتی ہیں۔ وہ قوی اسباب جو گمراہی کا ذریعہ ہیں، کیا کیا ہیں؟
شیطان علیہ اللعنت ، نفس امارہ (سرکش)، دنیا کی محبت ، عصری تعلیم کا غلط ماحول، مخلوط تعلیم، بازاروں میں بے پردہ بے حیا عورتیں، خواہشات کی پیروی، غلط ماحول ، گانا بجانا، موسیقی سننا، ٹی وی، ڈی وی ڈی، کیبل ، موبائل کا غلط استعمال کرنا، حرام کمانا، علماء کی بے ادبی کرنا، نیک لوگون سے عداوت رکھنا، میڈیا وغیرہ وغیرہ ، ان اسباب کی وجہ سے آدمی اللہ تعالیٰ کو ناراض کردیتا ہے، دین سے دور ہوجاتا ہے۔ ماں باپ ، بہن بھائی وغیرہ کو ناراض کر دیتا ہے اورشیطان علیہ اللعنت کو راضی کرتا ہے۔ دنیوری زندگی میں تلخی ، معاشرہ میں جھگڑے ، گھر میں بے اتفاقی ، گالیاں اور مارپیٹ کا ہونا آخرت بربادکرنا ہے۔ ان قوی اسباب سے بچنا بے حد ضروری ہے۔ آخرت کی آگ میں لمبا عرصہ رہنے سے دنیا کی آگ میں پانچ، دس یا سو سال رہنا آسان ہے۔ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے سترگناہ سخت اور تیز ہے۔
ان گناہوں سے بچنے کا آسان اورکامیاب طریقہ: قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سے اور بزرگوں کے تجربات سے اورملفوظات سے ثابت ہوتاہے، وہ یہ ہے کہ مرشد کامل سے بیعت ہونا، اسکی ہدایت کے مطابق کچھ نہ کچھ ذکر کرنا۔ اس کی مجلس میں اللہ تعالیٰ کیلئے کبھی کبھار حاضری دینا۔ اس کی توجہات سے فائدہ اٹھانا تاکہ اس کی صحبت سے دل میں عشق الہٰی آجائے، نورانیت مل جائے اور عبادت کی توفیق مل جائے، شیطان علیہ اللعنت سےنفرت ہوجائے، برے کاموں سے حفاظت آسانی کے ساتھ نصیب ہو جائے۔ بڑے بڑے حضرات کی زبان پر یہ شعر مشہور ہے ۔

یک زماں صحبت باولیاء
بہتر از صد سال طاعت بے ریا

ترجمہ: ایک ساعت ولی اللہ کی صحبت سو سال بے ریا عبادت سے بہتر ہے ۔ یہ شعر ویسے ہی مشہور ہے؟


کیا کوئی حقیقت نہیں رکھتا؟ اگر یقین نہ ہو تو کم از کم تجربہ تو کر لو تو ایسا ہی پاو گئے انشاء اللہ تعالیٰ۔
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ نیک لوگوں کے ساتھ ہوجاو، اگر ان کی صحبت میں فائدہ نہیں تھا تو پھر اللہ تعالیٰ نے کیوں بتایا کہ نیک لوگوں کے ساتھ ہو جاؤاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی اپنے گہرے زندہ دوست کے دین پر ہوتا ہے ۔ مرشدکامل گہرا دوست ہوتا ہے اگر مرشد کامل جو مکمل متبع سنت ہے اس کی بیعت اور گہری دوستی سے مرید میں دین منتقل نہیں ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں بتایا کہ آدمی گہرے دوست کے دین پر ہوتا ہے(سمجھ کی بات ہے) غور کرنا چاہئے ۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار قسم کے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی محبت واجب ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی وجہ سے محبت کرنے والے ، اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے والے، ملاقات کرنے والے، ایک دوسرے پر خرچ کرنے والے۔ مرشد کامل وہی ہوتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی وجہ سے مرید ان کے ساتھ محبت کرتا ہے ، بیٹھتا ہے ، ملاقات کرتا ہے ، خرچ کرتا ہے۔ اگر مرید کو مرشد کامل کی محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت نہیں ملتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کرنے والے کے لئے اسی طرح بیٹھنے والے کے لئے ملاقات کرنے والے کے لئے خرچہ کرنے والے کیلئے (غور کرنا چاہئے ، اپنے آپ پر رحم کرنا چاہئے) ہماری گمراہی کے لئے کتنے زیادہ اور زبردست اسباب ہیں۔
ہم کوئی فکر نہیں کرتے ۔ صرف ذکر کرنے سے کام نہیں بنتا جب تک مرشد کامل کی صحبت نہ ہو ۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ملفوظات کمالات اشرفیہ میں لکھتے ہیں کہ اگر کوئی لاکھ تسبحییں پڑھتا رہے کچھ نفع نہیں بغیر صحبت شیخ کے کیونکہ عادت اللہ یونہی جاری ہے کہ بدون شیخ کی صحبت کے خالص ذکر کام بنانے کے لئے کافی نہیں۔ صفحہ183
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جو مقام ملا، صحبت کی وجہ سے ملا نہ کہ مجاہد ہ اور ذکر واذکار سے۔ اگرچہ وہ مجاہدہ ذکر واذکار بھی کرتے تھے۔ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نہیں ملتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب یعنی مرشد کامل تو ملتے ہیں مگر طلب کرنے سے ۔ اگر ہم مرشد کامل کی صحبت او ربیعت اختیار نہیں کرتے تو ہمارا مرشد شیطان علیہ اللعنت ہوگا جیسا کہ بزرگوں کا مقولہ ہے کہ جس کا مرشد نہ ہو اس کا مرشد شیطان ہوتا ہے شیطان اس کی رہبری کرتا ہے نورانی چالوں میں۔ شیطان کی دو قسم کی چالیں ہیں۔ ظلمانی اور نورانی۔ نورانی چالیں زیادہ خطرناک ہیں۔ مرشد کامل کو پتہ چلتا ہے نورانی چالوں کا اس لئے مرشد کامل کی بیعت اور صحبت بے انتہا ضروری ہے ۔ مرشد کا مل کے قلب میں یہ کیفیت ہوتی ہے کہ

Al-Anfaal Verse 29

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ

یعنی حق وباطل میں پہچان کرسکتا ہے۔
بندہ ناچیز کا مشورہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو روحانی مریض سمجھ کر مرشد کامل سے بیعت ہوجائیں، اس کی ہدایت کے مطابق کچھ نہ کچھ ذکر کریں ، اس کی صحبت میں حاضری دیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک لوگوں کی صحبت اور رہبری نصیب فرمائے۔ اپنی رضا مندی کے لئے ۔ آمین یا ارحم الراحمین۔
تاثر3: حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ کی رحلت کے بعد مریدین کو کیا کرنا چاہے( یعنی کسی سے بیعت ہوجائے یا اسی پر اکتفاء کرے)

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے ۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

مقصد تقوی فرض ہے ۔ نیک زندہ لوگوں کی صحبت بھی فرض ہے ۔ جس کی وجہ سے تقویٰ آسان ہوجاتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مرشد کا مل کی صحبت سے تقویٰ آسان ہوتا ہے ۔ اصلاح ہوتی رہتی ہے لیکن انتقال سے صحبت اور اصلاح ختم ہوجاتی ہے ۔ اصلاح نفس زندہ مرشد سے ہوتی ہے اس لئے مرشد کے انتقال کے بعد خلفاء کے علاوہ سب مریدین کو تجدید بیعت کرنی چاہئے تاکہ منزل مقصود تک پہنچا جاسکے۔ اعزازی خلافت والوں کو بھی تجدید بیعت کرنی چاہئے ۔ خلفاء چونکہ منزل مقصود پر پہنچ چکے لہٰذا انہیں تجدید بیعت کی ضرورت نہ ہے ۔

حدیث شریف میں

المرؤ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ

یعنی آدمی اپنے گہرے زندہ دوست کے دین پر ہوتا ہے ۔ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اصول تصوف میں لکھتے ہیں کہ مرشد کے انتقال کے بعد تجدید بیعت کرنی چاہئے۔ لیکن تجدید بیعت کس سے کرنی ہے اس کیلئے دو شرائط ضروری ہیں۔ مرشد کامل متبع سنت ہو دوسری ان کے ساتھ دل کا لگاؤ اورمحبت بھی ہو۔ پھر دل چاہتا ہے تو کرسکتا ہے ۔

تاثر 4۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ انتہائی متبع سنت تھے:
ایک مرتبہ فرمایا کہ ام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ تعالیٰ کو پتہ چلا کہ میرے وضو میں لا علمی کی وجہ سے ایک مستحب عمل چالیس سال سے رہ گیا ہے ۔ اس کے بعد چالیس سال کی نمازیں دوبارہ پڑھیں( دہرائی)۔ اس کے بعد حضرت کے آنسو بہنے لگے اور فرمایا کہ آج کل ہمارے علماء کرام نماز میں سنت قرات نہیں پڑھتے۔

تاثر5۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ بے انتہا خاموش رہتے تھے۔
اتنی خاموشی کے باوجود دین کے مختلف شعبوں میں یکساں کام چلاتے تھے ۔ ایک مرتبہ کسی نے کہا حضرت آپ کچھ گفتگو فرمائیں تو ہم سامعین فائدہ اٹھائیں۔ حضرت نے فرمایا جس شخص نے میری خاموشی سے فائدہ نہیں اٹھایا وہ میری گفتگو سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

حضرت نور اللہ مرقدہ ، اپنی توجہ سے لوگوں کے دلوں کو منور اور روشن فرماتے تھے۔ اور تصفیہ باطن کراتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی زبان پکڑ کر کھینچ رہے تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا مہ مہ(ایسا نہ کرنا )ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس زبان کی وجہ سے میں ہلاکتوں میں مبتلا ہوگیا ہوں( مشکوۃ شریف)۔ عبرت کی بات ہے کہ یہ شخص کون تھا؟ یہ تمام انبیاء علیہم السلام کے بعد اول نمبرپر جنت والا تھا۔ زمانہ صحابہ رضی اللہ عنہ کا تھا۔ ماحول صحابہ رضی اللہ عنہ کا تھا۔ ان کے ماحول میں ہلاکت والی باتیں کس طرح ہوسکتی تھیں۔پھر بھی زبان کو کھینچ کھینچ کر افسوس کرتے ہیں۔
ہم گناہوں کے مجسمے ہیں ۔ غفلت والے ہیں۔ زمانہ پندرھویں صدی کا ہے ۔ یہ بگڑاماحول ہے۔ ہر شخص خود انصاف کرے، خاموشی کتنی ضروری ہے ۔

مَنْ صَمَتَ نَجَا

جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی۔


تاثر 6۔ حضرت خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ ، تحفظ ختم نبوت کی تحریک چلاتے تھے
حضرت صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (پوری دنیا) کے امیر تھے ۔ ان کی نگرانی میں ختم نبوت کے بارے میں مختلف ترقیات حاصل ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جتنے غزوات ہوئے سب میں دوسو سے تین سو کے درمیان صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین شہید ہوئے ہیں لیکن ختم نبوت کے مسئلہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بارہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے ہیں۔ حضرت نور اللہ مرقدہ 15اپریل1953ء کے سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے بلکہ اپنے آ پ کو گرفتاری کیلئے پیش کیا پھر 11اگست کو سنٹرل جیل لاہور منتقل کر دیئے گئے ۔ حضرت نور اللہ مرقدہ 1953ء کی تحریک سے لے کر آخری دم تک تحفظ ختم نبوت کے لئے دن رات کوشاں رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی خدمت دین میں قبولیت نصیب فرما دے۔ آمین یا ارحم الراحمین۔

تاثر 7۔ حضرت خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ ، کی خانقاہ شریف کا نمایاں کردار:
خانقاہ سے اصل مصقود وصول الی اللہ ہے ، تزکیہ نفس، باطنی ترقیات ، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر آسانی کے ساتھ عمل کرنا، رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کے طریقوں پر شوق، جذبہ ومحبت کے ساتھ چلنا ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ، جنت الفردوس کا حاصل کرنا اور شیطان علیہ اللعنت کے تسلط سے اور دوزخ کی آگ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے حضرت نور اللہ مرقدہ کی خانقاہ شریف میں یہ تمام مقاصد بغیر مجاہدہ ، ریاضت ، مشقت کے حاصل ہوجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اس خانقاہ شریف کو تادیر قائم دائم آباد رکھے۔ آمین یا ارحم الراحمین۔ اس کے علاوہ اس خانقاہ شریف کے اندر ایک ممتاز خصوصیت یہ ہے کہ آنے والے مریدین متعلقین مہمانوں کے لئے کسی چیز کی دقت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ یعنی کھانے پینے بستر کمرے وغیرہ کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی ۔ بلکہ ہر شخص کو یہ آزادی ہوتی تھی کہ جتنے دن رہنا پسند کریں رہیں، چاہے دس دن، ایک مہینہ، چالیس دن یا زندگی بھر رہنا ہوتو کوئی پوچھ گچھ سوال جواب نہیں ہوتا۔
خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ کی مسجد میں جاری دیگر اعمال کے ساتھ ختم خواجگان ، ختم مجددی اور ختم معصومی بھی تمام سال پڑھے جاتے ہیں۔ ختم خواجگان حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے لے کر امام طریقت حضرت خواجہ سید بہاؤالدین نقشبندرحمۃ اللہ علیہ تک اکابرین سلسلہ نقشبندیہ سے منسوب ہے ۔

طریقہ ختم خواجگان:

چند افراد مل کر (15یا20افراد ہوں تو آسانی ہوجائے گی) اس کی ابتداء اس طرح کریں ۔ پہلے ختم خواجگان پڑھوانے والا شخص دعا کروائے اور اس دعا میں سورۃ فاتحہ بھی پڑھے۔100عدد گھٹلیاں ساتھیوں میں تقسیم کردے اور10عدد شمار کرنے کے لئے اپنے پاس رکھے۔ پہلے 7دفعہ سورۃ فاتحہ مکمل پڑھیں، درود شریف 100مرتبہ پڑھیں، سورۃ الم نشرح 79مرتبہ پڑھیں ، پھر 1000 مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھیں، پھر 7مرتبہ سورۃ فاتحہ اور100مرتبہ درود شریف پرھنے کے بعد مندرجہ ذیل اسماء مبارکہ100مرتبہ ہر ایک پڑھیں۔1۔یاقاضی الحاجات، 2۔ یا کافی المہمات ، 3۔ یادافع البلیات، 4۔ یا شافع الامراض ، 5۔ یا رفیع الدراجات، 6۔ یا مجیب الدعوات ، 7۔ یا ارحم الراحمین ۔ پھر سب حضرات ہاتھ اٹھا کر دعا کریں اور دعا میں اس ختم شریف کا ثواب حضرت خواجگان کو بخش دیں۔ اس ختم شریف اور خواجگان کی برکت سے دینی ودنیا وی حوائج کیلئے بھی دعا کرسکتے ہیں۔

طریقہ ختم مجددی:

ساتھیوں میں100گھٹلیاں تقسیم کریں اور5شمار کے لئے علیحدہ اپنے پاس رکھیں۔ اول آخر 100،100مرتبہ درود شریف اللھم صلی علی سید نا محمد وعلیٰ ال سیدنا محمد وبارک وسلم علیہ یا جو بھی یاد ہو پڑھ لیں۔ درمیان میں لا حولہ ولا قوۃ الا باللہ500مرتبہ پڑھیں اور اسکا ثواب حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو بخش دیں۔ پھر امام ربانی مجددالف ثانی ؒ اور اس ختم نبوت کی برکت سے اپنی حوائج کے لئے دعا کریں۔

طریقہ ختم معصومی :

ساتھیوں میں100گھٹلیاں تقسیم کریں اور 5 شمار کے لئے علیحدہ اپنے پاس رکھیں ۔اول آخر100،100مرتبہ درود شریف اللھم صلی علی سیدنا محمد وعلیٰ ال سیدنا محمد وبارک وسلم علیہ یا جو بھی یاد ہو پڑھ لیں۔ درمیان میں500مرتبہ لا الہ الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین پڑھیں اور اسکا ثواب حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ کو بخش دیں ۔ پھر حضرت خواجہ محمد معصوم اور اس ختم شریف کی برکت سے اپنی حوائج کے لئے دعا کریں۔

ختم مجددی اور ختم معصومی دونوں اجتماعی شکل میں شروع کرنے چاہئیں۔ انشاء اللہ اجتماعی برکات نصیب ہوں گی۔ اجتماعی طورپر پڑھنا اگر ممکن نہ ہوسکے تو انفرادی شکل میں لازماً 41تک پڑھیں۔ اگر دونوں نہ پڑھ سکیں تو ایک ہی شروع کردیا جائے۔ 41 دن میں دینی ودنیاوی برکات انشاء اللہ آپ کو خود محسوس ہو جائیں گیں۔ اللہ تعالیٰ ذکر کثیر کی توفیق اور اپنی معرفت ومحبت نصیب فرمائے۔(آمین)۔
مدارس، مساجد یا گھر میں مجددی وختم معصومی یا ایک ہی اجتماعی شکل میں شروع کرنے چاہئیں۔ مدارس میں خصوصاً ختم خواجگان کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ آج ہر گھر ، محلہ اور تعلیمی اداروں میں پریشانیاں بڑھ رہی ہیں۔ مالی حالات کی وجہ سے ، اتفاق کا نہ ہونا، جادو کا اندیشہ ، بے سکونی، بیماریاں ، اندرونی بیرونی جھگڑے اور بے دینی کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں اور مختلف مصائب میں مبتلا ہیں۔ اس کا حل صرف اور صرف رجوع الی اللہ ہے ۔ اللہ ہی خیروشرکا مالک ہے ۔ ہمارا یمان ہے کہ مخلوق کے ہاتھ میں کچھ نہ ہے ۔ ان ختم ہائے مبارکہ کے ذریعے توجہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے جب خیر کا مطالبہ، انعامات کی طلب اورمصائب سے حفاظت اجتماعی شکل میں طلب کی جائے گی تو پھر کیوں نہ ملے گی؟ ضرور بالضرور عطا ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ مجھ سے مانگو میں دونگا۔ تمہاری دعا قبول کرونگا۔

سید نا یونس علیہ الصلوۃ والسلام جب مچھلی کے پیٹ میں پھنسے تو نجات کا واسطہ نبوت کے آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین کو بنایا۔ عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادہ اغوا ہوئے اور غربت بھی انتہائی درجہ کی تھی۔ ان سے نجات کا ذریعہ ان کا تقویٰ اور لا حولہ ولا قوۃ باللہ کی کثرت بنی اس کے باوجود کہ وہ صحابی تھے ۔ اگر اپنا اور اپنے گھر والوں کا رخ اللہ کی جانب نہ کریں گے تو لازماً توجہ اسباب اور مادیت کی طرف منتقل ہوجائے گی۔ مخلوق خود مختاج ہے او ر پریشانی میں مبتلا تو ہمارے لئے کیا کرسکتی ہے ۔ ایک مانگنے والا دوسرے مانگنے والے کو کیا دے سکتا ہے ؟
بندہ ناچیز کا مشورہ ہے کہ 41دن ان تین ختم ہائے مبارکہ کا اہتمام کریں اگر ممکن نہ ہو تو ایک یاد وہی سے شروع کر لیں ۔ تجربہ کرلیں کہ کتنا منافع اور برکات کا حصول ہوتا ہے اور اگر41دن میں یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ ختم پڑھنا کیا مشکل ہے ۔ 41دن کے بعد اگر پڑھنا چاہیں تو اپنے پیرومرشد سے اجازت لے لیں۔ اگر اب تک کسی مرشد کامل سے بیعت کا تعلق قائم نہیں کیا ہےتوبندہ ناچیز محب اللہ عفی عنہ (خلیفہ مجاز حضرت خواجہ خواجگان خواجہ محمد صاحب نور اللہ مرقدہ ) سے موبائل رابطہ کر کے اجازت طلب کر سکتا ہے۔ مرشد کامل کی اجازت سے نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ جاتی ہےاوراعمال میں انواروبرکات باآسانی مل جاتے ہیں۔


(نوٹ)ختم مبارکہ اگر اجتماعی شکل میں گھر ، محلہ یا مدرسہ میں نہ پڑھا جائے تو اسکی دعوت ضرور دیں کیونکہ دعوت کے بعد اللہ کی نصرت آتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عادت مبارکہ ہے لہٰذا چند افراد ضرور مل جائیں گے ۔اللہ تعالیٰ اس خانقاہ شریف کو اسی طرح آباد وکامیاب رکھے، قبولیت کے ساتھ آسانی کے ساتھ لوگوں کو نفع پہنچانے کیلئے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کیلئے جنت حاصل کرنے کیلئے دنیا وآخرت کی کامیابی کیلئے ۔ آمین یارارحم الراحمین۔

تاثر8۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ کے انتقال پر آسمان کا رونا
بعد ازنمازِ مغرب 5مئی 2010کو روح مبارک پرواز ہوئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔21 جمادی الثانی جمعرات 1431ھ کو حضرت کے انتقال سے پہلے کہیں بارش نہیں تھی مگر انتقال کے بعد ملک کے مختلف کونوں سے اطلاع آئی کہ بارش ہورہی ہے ۔ بزرگوں کے انتقال پر آسمان وزمین کا رونا قرآن پاک کی آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے جیسا کہ علماءکرام نے تصریح فرمائی ہے ۔

تاثر9۔ بڑی مصیبت (جیسے کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ کا انتقال ہے )میں اللہ تعالیٰ کا حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ کا حکم ہے وبشر الصابرین۔ یعنی صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔ اب صبر کرنے والے کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالواانا للہ وانا الیہ راجعون یعنی صابرین وہ لوگ ہیں جو مصیبت کے وقت یہ کلمات پڑھتے ہیں(انا للہ سے آخر تک) اب خوشخبری کیا ہے ۔ قرآن پاک میں الیک علیھم صلوت من ربھم ورحمۃ واولیک ہم المھتدون یعنی ان کے لئے تین انعامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں عمومی رحمتیں وخصوصی رحمتیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں(اللہ اکبر) یہ بہت بڑے انعامات ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔"جس نے مصیبت کے وقت یہ کلمات پڑھے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیراً منھا( مشکوٰۃ شریف ۔ جلالین شریف) تو اللہ تعالیٰ نعم البدل نصیب فرمائیں گے"
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتی ہیں کہ میرے خاوند ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جب انتقال ہو اتو میں یہ کلمات پڑھے۔ مجھے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نعم البدل عطا فرمائیں گے لیکن سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ابو سلمہ سے بھی کوئی شخص بہتر ہوگا۔ ان کلمات کی برکت سے میرا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ خلاصہ ہمارے مرشد نور اللہ مرقدہ، کا نعم البدل ملنا اگرچہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

تاثر10۔ گھریلو یا ذاتی پریشانیوں مصائب کے متعلق شکایت
حضرت اقدس نور اللہ مرقدہ سے جب مریدین یا متعلقین اپنے گھریلو یا ذاتی پریشانیوں مصائب کے متعلق شکایت اور فریاد لے کر آتے تھے تو حضرت اقدس نور اللہ مرقدہ جواب میں فرماتے تھے کہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کثرت سے پڑھا کرو۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا کامل تعلق نصیب کرے۔ آمین

خادم مدرسہ(حضرت مولانا) محب اللہ عفی عنہ
ملنے کا پتہ : (حضرت مولانا) محب اللہ عفی عنہ
(خلیفہ مجاز) شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نور اللہ مرقدہ
(خادم) مدرستہ عربیہ سراجیہ سعدیہ نزد کمشنری لورالائی بلوچستان پاکستان

فون نمبر 411082-0824

موبائل نمبر 03333807299

03023807299