Film Making on Prophet


By


Maulana Muhib Ullah

انبیاء اعلیہم الصلوۃ والسلام پر فلم بنانا


توہین رسالت کے مترادف

تحریر : حضرت مولانا محب اللہ صاحب مدظلہ العالی

بسم اللہ الرحمن الرحیم


الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی


دی میسج (The Message )نامی فلم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس واقعات پر مشتمل ہے اس فلم کی نمائش "جیو" چینل پر ہر سال کی جاتی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اظہر کو چھوڑ کر اس فلم میں تقریباً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نام سے کرداروں کو پیش کیا ہے 313بدری صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین بھی بدر کی جنگ میں دکھائے گئے ہیں ان کے ناموں پر اداکاروں نے کردار ادا کئے۔
آج کل "پیام اسلامی ثقافتی مرکز" نامی ادارے نے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی زندگی پر فلمائی گئی فلموں کا اردو زبان میں ترجمہ کر کے پھیلا نا شروع کر رکھا ہے ان فلموں میں حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ، حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام ، حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ، حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرضی کردار پیش کئے گئے ہیں۔ ان فلموں میں کئی مقامات پر نبی کا فرضی کردار کرنے والے کو اے نبی، اے یوسف، اے ابراہیم، اے پیغمبر کہہ کر پکارا جاتا ہے ۔ اسی طرح یہ فرضی کردار بھی کئی مقامات پر اپنے ڈائیلاگ سے خود کو اللہ کا پیغمبر کہتے ہیں۔ کئی ایک بار جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام کو وحی لاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ایک انسان کو حضرت جبرائیل کے نام سے کردار دیا گیا ہے اسی طرح انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے نام بنائے گئے کرداروں پر مذاق کرنا، پاگل مجنون کہنا وغیرہ بھی فلمایا گیا ہے ۔ ایسی ہی کئی توہین پر مبنی مثالیں ان فلموں میں حد سے زیادہ موجود ہیں۔
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور قرآن پاک کی فلم بنانے میں علماء کرام کی جو تصریحات اور اقوال ہیں وہ نقل کئے جاتے ہیں اور کتب معتبرہ سے مسئلہ نقل کیا جاتا ہے ۔ اس میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، مولانا محمد شفیع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مفتی اعظم پاکستان ، اور مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ "کفایت المفتی" میں اور مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمتہ اللہ تعالیٰ "آپ کے مسائل اور انکا حل" وغیرہ میں جو تصریحات فلم بنانے کے بارے میں کی ہیں وہ نقل کی جاتی ہیں۔
مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ کا قول آلات جدیدہ میں مولانا محمد شفیع رحمۃ اللہ نے نقل کیا ہے "فلم کی شرعی احکام بائسکوپ کے پردہ پر خلفاء اسلام کی تصویریں متحرک بولتی گاتی اور ناچتی دکھائی جائیں اور خواتین اسلام کو بائسکوپ کے ذریعہ سے پبلک میں پردہ پیش کیا جاتا ہے یہ مطلقاً معصیت (گناہ)ہے اور کسی مسلمان کی تصویر بنانا اور زیادہ معصیت ہے اگرچہ اس تصویر کی طرف کوئی امر مکروہ بھی منسوب نہ کیا گیا ہو تفریح اور تلذذ(لذت) ہی کیلئے ہو کیونکر محرمات شرعیہ سے تلذذبالنظر بھی حرام ہے ۔"
فلم دیکھانے میں جتنے نقصانات ہیں ان سب سے بڑھ کر شناعت (برائی ) میں وہ صورت ہے جس میں مقتدیان دین کی اہانت (توہین ) ہو کہ درحقیقت وہ اہانت اسلام کی ہے جس کا تحمل (برداشت) کسی طرح طبعاً اور شرعاً ممکن نہیں اور جب ایسی فلموں کے قبائح معلوم ہو گئے تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ بقدر اپنی قدرت کے گووہ قدرت حکومت سے استعانت ہی کے بطور پر ہو ان کے انسداد (ختم کرنے ) میں کوشش کریں اور تماشا دیکھنے والوں کو ان قبائح پر مطلع (خبردار) کر کے شرکت سے روکیں ورنہ اندیشہ ہے کہ سب عقاب (عذاب ) خداوندی میں گرفتار ہوں گے ۔ مشکوۃ شریف کی حدیث ہے کہ


ترجمہ: اگر کسی قوم میں برائی ہوتی ہے قوم اس کے بند کرنے پر قدرت رکھتی ہے لیکن بند نہیں کرتی ضرور بالضرور قریب ہے کہ اسی قوم کو عذاب عام ہو جائے گا ۔ یعنی اگر خود نہیں کرتے تھے لیکن کرنے والوں کی نحوست سے وہ بھی عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے (مخلص از آلات جدیدہ مولانا محمد شفیع رحمتہ اللہ تعالیٰ صفحہ 148)۔
مولانا یوسف لدھیانوی شہید اسلام نے اپنی کتاب آپ کے مسائل اور ان کا حل میں "فجر اسلام " نامی فلم کے بارے میں لکھا ہے کہ "اس فلم پر علماء کرام نے شدید احتجاج کیا اور اس کو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک سازش قرار دیا(آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 7صفحہ 385)۔
دوسری جگہ انگریزی زبان میں اسلامی موضوعات پر فلمائی گئی ایک فلم (جس میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ علیہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی مبارک کی آواز بھی مختصر طور پر سنائی گئی ہے)کےبارے میں میں لکھا ہے کہ یہ اسلامی فلم نہیں بلکہ اسلام اور اکابراسلام کا مذاق اڑانے کے مترادف (ہم شکل ) ہے اس کا دیکھنا گناہ کبیرہ ہے (آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 7صفحہ 386)۔
تیسری جگہ (حیات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ایک یہودی سازش، جس میں مسجد قباء کی تعمیر حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دکھایا ، حضرت حمزۃرضی اللہ عنہ کا کردار بھی ایک عیسائی اداکار نے ادا کیا اور سب سے بری بات یہ ہے کہ اس فلم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک تک دکھایا یعنی یہ مسجد قباء کی تعمیر ہورہی ہے اور سایہ اینٹیں اٹھا اٹھا کر دے رہا ہے ۔ لوگ اس کو تبلیغی فلم سمجھتے ہیں)کے بارے میں لکھا ہے کہ "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو فلمانہ اسلام اور مسلمانوں کا بدترین مذاق اڑانے کے مترادف ہے ۔ علماء امت اس پر شدید احتجاج کر چکے ہیں اور حساس مسلمان اس کو اسلام کے خلاف ایک یہودی سازش تصور کرتے ہیں۔ ایسی فلم کا دیکھنا گناہ ہے اور اس کا بائیکاٹ کرنا فرض ہے (آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد نمبر7صفحہ 388)۔
چوتھی جگہ لکھا ہے "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بنی ہوئی فلم دیکھنا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر مبنی ہے ۔ اس فلم پر دنیائے اسلام نے غم و غصہ کا اظہار کیا تھا اور اسلامی حکومتوں نے مذمت بھی کی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذات مقدسہ کو فلم کا موضوع بنانا نہایت دل ازار توہین ہے دشمنان اسلام نے بار ہا ایسی کوششیں کیں لیکن غیور مسلمانوں نے سراپا احتجاج بن کر ان کی سازشوں کو ہمیشہ ناکام بنایا۔ یہ نہایت افسوس ناک حرکت ہے حکومت کو خود ہی اسکا نوٹس لینا چاہئے۔ اگر حکومت اس طرف توجہ نہ کرے تو مسلمانوں کو خود اسکا سدباب (بند ) کرنا چاہئے" (آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 7 صفحہ 390)۔
پانچویں جگہ لکھا ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ٹی وی ، وڈیواور فلموں پر اچھا پروگرام آتا ہے ۔ اچھے مقاصد کےلئے استعمال ہوتا ہے ۔ اس میں کیا حرج ہوگا۔ لیکن یہ بالکل غلط ہے ۔ شریعت مطہرہ میں جاندار کی تصویر حرام ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی ہے ۔ ٹیلی وژن اور وڈیو فلموں میں تصویر ہوتی ہے جس چیز کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حرام اور معلون فرماتے ہیں اسکے جواز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی ام الخبائث (شراب ) کے بارے میں کہے کہ اس کو نیک مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے تو قطعاً لغوبات ہوگی ۔ ہمارے دور میں ٹی وی اور وڈیو الخبائث (برائیوں کا اصل) کا درجہ رکھتے ہیں اور یہ سینکڑوں خبائث (برائیوں کا سرچشمہ ) ہیں۔ آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد نمبر7صفحہ389
مفتی کفائت اللہ صاحب جو اپنے دور کے مفتی اعظم تھے انہوں نے کفایۃ المفتی میں لکھا ہے "موٹر کا نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکھا تو یہ لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مترادف ہے اور اس میں نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ تمام فرقوں کی جو نبی کے قائل اور سلسلہ نبوت پرایمان رکھتے ہیں دل آزاری اور اس کو اس فعل سے روکنا ضروری ہے "(کفایۃ المفتی جلد نمبر1صفحہ 93)۔ دوسری جگہ لکھا ہے چلتی پھرتی تصویریں فلموں پر دیکھنا محض لہو لعب کے طور پر ہوتا ہے ۔ تصویر سازی حرام ہے اور تصویر بینی اور تصویر نمائی اعانت علی الحرام ہے اس لئے فلم خواہ حج کے مناظر کی بنانی ہو دیکھنی دکھانی ناجائز ہے -کفایۃ المفتی جلد نمبر9صفحہ 205

فلم کی ممانعت کے بارے میں رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کا متفقہ فتویٰ

استنکار !خراج فیلم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فلم بنانے کی ممانعت


ترجمہ: مذکورہ عنوان کے متعلق مکہ مکرمہ میں رابطہ عالم اسلامی کی مجلس تا ء سیسی میں بحث ہوئی اور اس مجلس نے فیصلہ دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فلم بنانا حرام ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تمثیل بھی حرام ہے اور یہ قرار داد یکم شعبان 1391ء سے 13شعبان 1391ء کے دوران منعقد ہونے والے تیرہویں اجلاس کے دوران منظور ہوئی جس کا مکمل متن یہ ہے کہ مجلس تاسیسی اتفاقی طور پر فیصلہ کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فلم فلم بنانا حرام ہے کیونکہ اس فلم میں کیمرے کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمثیل پیش کی جاتی ہے جس سے تمثیلی طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ، حرکات وسکنات اور زندگی کے دیگر افعال کے بارے میں متعینہ طور پر آگاہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف مقامات اور متفرق مناظر میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تمثیل ہے اور یہ دونوں کام بالا تفاق حرام ہیں۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، مفتی محمد شفیعؒ، مولانا کفایت اللہ ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی تصریحات سے 10 نکات سامنے آتے ہیں جو درج ذیل ہیں۔

فلموں میں انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام کے واقعات کا دیکھنا اور دکھانا قطعی حرام اور عذاب الہٰی کو دعوت ہے
۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور قرآن پاک پر فلم بنانا ، چلانا یہ ان حضرات مقدسہ کی توہین اور مسلمانوں کی دل آزاری کی زبردست شرارت ہے ۔ اس سے کفر کا بڑا خطرہ ،گناہ کبیرہ اور قطعی حرام ہے ۔
۔ تمام مسلمان اور اہل کتاب جیسے یہود ونصاریٰ جو انبیاء کرام یعنی موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ، عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والے ہیں سب مل کر فوری حکومت سے احتجاج کے ذریعے اس پر پابندی لگوائیں بلکہ حکومت کے ذمہ داران بھی ایمانی تقاضا کے تحت ان فلموں کو جلد از جلد بند کرادیں۔ اس سلسلے میں اگر کوئی شخص ان فلموں کے بارے میں باز نہیں آتا تو اس کو توہین رسالت کے مقدمہ میں پکڑنا چاہئے۔ یہ ایمان کا مسئلہ ہے ۔ اگر کوئی آدمی ہمارے ماں باپ پر فلم بنائے تو ہم اس کو برداشت نہیں کریں گے چہ جائیکہ توہین رسالت ، توہین اسلام اور توہین کلام اللہ پر فلمیں بنائی جائیں۔
۔ٹی وی ، وی سی آر، کیبل کا استعمال کرنا اور انٹرنیٹ ، موبائل پر فلمیں (جن میں عورتیں اور غیر شرعی پروگرام آتے ہیں) دیکھنا یہ تمام الخبائث (برائیوں کی اصل) ہے ۔ اس کا قصداً دیکھنا حرام اور اس سے لذت لینا اور زیادہ خطرناک ہے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فلمیں بنانا یا چلانا یا دیکھنا اور بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اور اس سے ایمان سلب (نکلنے) ہونے کا خطرہ ہے ۔ اور ابدالا باد جہنم میں جانےکا ڈر ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایمان کے زوال سے سارے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔
۔ اگر بعض لوگ ضد میں آکر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فلموں کا دیکھنا اور چلانا نہیں چھوڑتے اور حکومت بھی اس کو بند نہیں کرواتی اور لوگ بھی قدرت رکھنے کے باوجود ان فلموں کو بند نہیں کرواتے تو موت سے پہلے ان پر عذاب آنے کا سخت ڈر ہے ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے ۔
۔ پہلے بھی کفریہ ممالک نے ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فلم بنانے کی شرارت شروع کی تھی جس پر مسلمانوں کے شورمچانے ، احتجاج اور فریاد کرنے سے یہ سلسلہ بند اور ناکام ہوگیا تھا۔ لیکن اب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فلمیں بنانے اور دکھانے میں یہ قوی خطرہ ہے کہ جب ہم مسلمانوں کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فلمیں بنانے اور دکھانے پر غیرت نہیں آتی تو پھر کافروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فلم بنانے اور دکھانے کا موقعہ مل جائے گا۔
۔ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی پر فلمائی گئی اسلامی یا تبلیغی فلمیں جیسے فجر اسلام ، دی مسیح وغیرہ یہ سب اسلام دشمنوں کی شرارت ہے اور مسلمانوں کے مقدس حضرات سے مذاق اور توہین کے مترادف ہے۔ اس کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جس نے اس کا رد کیا اور غم وغصے کا اظہار کیا اس نے غیرت ایمانی کا ثبوت دیا اور اس قسم کی فلم بنانے والوں پر توہین رسالت کا مقدمہ کرنا چاہئے۔ جس ذریعے ( تصویروں ) پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہو اور حرام قرار دیا ہو اس سے دین کا سیکھنا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کا جاننا نہیں ہوسکتا۔ آج تک ایک مسلمان بھی ایسا نہیں کہ جو فلم یا ٹی وی کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر عمل کرنے والا بن گیا ہو۔
۔ مکہ مکرمہ کے دارالافتاء سے بھی متفقہ فیصلہ آچکا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر فلم بنانے کو متفقہ طور پر حرام قرار دیا گیا ہے (مجموعہ فتاویٰ ومقالات متنوہ لابن باز رحمۃ اللہ علیہ من المجلد الاول صفحہ 413
۔ آج کل فلم میں جو دکھایا جاتا ہے کہ ایک آدمی اپنے آپ کو یعقوب علیہ السلام یا یوسف علیہ السلام یا ابراہیم علیہ السلام یا موسیٰ علیہ السلام (جو اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں) کے طور پر ظاہر کرتا ہے اور دیکھنے والے اس کو وہی سمجھتے ہیں ۔ اس میں دوبڑی خطرناک باتیں ہیں۔
الف۔ غیر نبی کو نبی سمجھنا یہ کھلم کھلا کفر ہے ۔ کردار ادا کرنے والے کے لئے بھی اور دیکھنے والے کے لئے بھی۔
ب۔ کوئی کافر نجس ناپاک آدمی اپنے آپ کو اولوالعزم نبی کہلواتا دیکھایا جاتا ہو تو دیکھنے والے کے ذہن مین وہی منحوس شکل بیٹھ جاتی ہے ۔ موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ، یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے نام سننے سے وہی خبیث آدمی کی شکل ذہن میں آئے گی ۔ یہ کتنی حسرت کی بات ہے کہ مقدس حضرات علیہم الصلوۃ والسلام جو خوبصورت اور خوب سیرت حضرات ہیں ان کو اس منحوس شکل سے دکھانا اور دیکھنا یہ انبیائ علیہم الصلوۃ والسلام اور مقدس حضرات کی توہین اور اسلام کا مذاق اڑانا اور مسلمانوں کی دل آزاری نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ اگر اس پر بھی ہم مسلمانوں کی ایمانی غیرت جوش میں نہیں آتی تو پھر کب آئے گی ؟
۔ سب مسلمانان مل کر حکومت کے عہدہ داروں کو جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ساتھ شامل کر کے ہر شہر میں زبردست احتجاج کریں کہ ان فلموں کو فوری طورپر بند کر دیا جائے اور جو کیسٹیں جس کے پاس ہوں خود باہر نکال کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیں اور موبائیلوں اور کمپیوٹر وغیرہ سے بھی ان فلموں کو فوراً ختم کردیں یہ غیرت ایمانی کی دلیل ہے ۔ مستقبل کے لئے اگر کوئی شخص ایسا ہو جو ان فلموں کو ضد کر کے چلائے تو اس کو توہین رسالت کے مقدمہ میں گرفتار کرنا چاہئے۔ اور اسی احتجاج میں عوام الناس کو اطلاع دینی چاہئے کہ جس نے فلم چلائی یادکھائی وغیرہ سب اخلاص کے ساتھ توبہ کریں۔ سارے مسلمان کوشش کریں کہ ام الخبائث (برائیوں کی اصل )ٹی وی ، وی سی آر ، کیبل تصویر والے موبائل وغیرہ گھروں سے نکال دیں ۔ انہیں سے ساری برائیاں، خرابیاں اور معاشرہ کا بگاڑنا وجود میں آتا ہے ۔ خصوصاً انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے فلموں کو فوراً ختم کرین ۔ ان فلموں کے ساتھ ایمان بچنا مشکل ہے ۔
۔ لوگوں کو ایمان سے نکالنے کا بڑاحملہ:۔انبیا ء علیہ الصلوۃ والسلام پر جتنی فلمیں بھی بنیں ہیں یہ کسی مسلمان علماءنے نہیں بنائیں بلکہ یہ کفر یہ ممالک کی شرارت سے کسی کافر آدمی کو مقرر کر کے بنائی گئی ہیں کیوں کہ مسلمان یہ جرات نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں وہ موسیٰ ہوں جو نبی تھے ایسا کرنے سے وہ کافر بن جاتا ہے ۔ اور ہماری اطلاع کے مطابق ان فلموں میں سادہ لوح مسلمانوں کاایمان خراب کرنے کے لئے قرآنی واقعات غلط طریقہ سے دکھائے جاتے ہیں۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے تم دین کا کوئی مسئلہ کسی کافر سے پوچھو۔

تحریر

حضرت مولانا محب ﷲ صاحب مدظلہ العالی

+923023807299
+923333807299
مدرسہ عربیہ سراجیہ سعدیہ
نزد کمشنری لورالائ
بلوچستان
پاکستان